3 ۱؂ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی مسیح کو اس کی زندگی میں وجاہت یعنی عزت اور مرتبہ اور عام لوگوں کی نظر میں عظمت اور بزرگی ملے گی اور آخرت میں بھی۔اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح نے ہیرودوس اور پلاطوس کے علاقہ میں کوئی عزت نہیں پائی بلکہ غایت درجہ کی تحقیر کی گئی۔ اور یہ خیال کہ دنیا میں پھر آکرعزت اور بزرگی پائیں گے۔ یہ ایک بے اصل وہم ہے جو نہ صرف خدائے تعالیٰ کی کتابوں کے منشاء کے مخالف بلکہ اس کے قدیم قانونِ قدرت سے بھی مغائر اور مبائن اور پھر ایک بے ثبوت امر ہے مگر واقعی اور سچی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس بدبخت قوم کے ہاتھ سے نجات پاکر جب ملک پنجاب کو اپنی تشریف آوری سے فخر بخشا۔ تو اس ملک میں خدائے تعالیٰ نے ان کو بہت عزت دی اور بنی اسرائیل کی وہ دس قومیں جو گم تھیں اس جگہ آکر ان کو مل گئیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اس ملک میں آکر اکثر ان میں سے بُدھ مذہب میں داخل ہوگئے تھے اور بعض ذلیل قسم کی بت پرستی میں پھنس گئے تھے۔ سو اکثر ان کے حضرت مسیح کے اس ملک میں آنے سے راہ راست پر آگئے۔ اور چونکہ حضرت مسیح کی دعوت میں آنے والے نبی کے قبول کرنے کے لئے وصیّت تھی اس لئے وہ دس فرقے جو اس ملک میں آکر افغان اور کشمیری کہلائے۔ آخرکار سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ غرض اس ملک میں حضرت مسیح کو بڑی وجاہت پیدا ہوئی۔ اور حال میں ایک سکّہ ملا ہے جو اسی ملک پنجاب میں سے برآمد ہوا ہے اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام پالی تحریر میں درج ہے اور اُسی زمانہ کا سکّہ ہے جو حضرت مسیح کا زمانہ تھا۔ اس سے یقین ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس ملک میں آکر شاہانہ عزت پائی۔ اور غالباً یہ سکّہ ایسے بادشاہ کی طرف سے جاری ہوا ہے جو حضرت مسیح پر ایمان لے آیا تھا۔ ایک اور سکّہ برآمد ہوا ہے اس پر ایک اسرائیلی مرد کی تصویر ہے۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی حضرت مسیح کی تصویر ہے۔ قرآن شریف میں ایک یہ بھی آیت ہے