خواہ اُس ارادہ کو کسی ملہم پر ظاہر کیا ہو یا نہ کیا ہو دعا اور صدقہ اور توبہ اور استغفار سے ٹل سکتا ہے کس قدر سچا اور مغز شریعت اور تمام نبیوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے مگر کیاممکن ہے کہ ایک نفسانی آدمی جومجھ سے مخالفت رکھتا ہے وہ اس نکتہ معرفت کو میرے مُنہ سے سن کر قبول کر لے گا؟ ہرگز نہیں۔ وہ تو سنتے ہی اس فکر میں لگ جائے گا کہ اس کاکسی طرح رد کرنا چاہیئے تا کسی پیشگوئی کی تکذیب کا یہ ذریعہ ٹھہر جائے ۔ اگر اس شخص کو خدا کاخوف ہوتا تو لوگوں کی طرف نہ دیکھتا اور ریاکاری سے غرض نہ ؔ رکھتا بلکہ اپنے تئیں خدا کے سامنے کھڑا سمجھتا اور وہی بات منہ پر لاتا جو بپابندی تقویٰ بیان کرنے کے لائق ہوتی۔ اور ملامت اٹھاتا اور لوگوں کی *** سنتا مگر سچائی کی گواہی دے دیتا۔ ولٰکن اذا غلبت الشقوۃ فاین السعادۃ۔ دوسرا حملہ میاں عبد الحق کا یہ ہے کہ وہ تجویز جو میں نے خدا تعالیٰ کے الہام سے بطور اتمام حجت پیش کی تھی جس کو میں اس سے پہلے بھی بذریعہ اشتہار شائع کرچکا تھا یعنی بیماروں کی شفا کے ذریعہ سے استجابت دعا کا مقابلہ اس تجویز کو میاں عبد الحق منظور نہیں فرماتے اور یہ عذر کرتے ہیں کہ بھلا سارے مشائخ اورعلماء ہندوستان و پنجاب کس طرح جمع ہوں اور ان کے اخراجات کا کون متکفّل ہو۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ کیا فضول او رلچر عذر ہے۔ جس حالت میں یہ لوگ قوم کا ہزارہا روپیہ کھاتے ہیں تو ایسے ضروری کام کے لئے دو چار روپیہ تک کرایہ خرچ کرنا کیا مشکل ہے یہ تو ہم نے قبول کیا کہ یہ لوگ دین کے لئے کوئی تکلیف اپنے پر گوارا نہیں کرسکتے لیکن ایسی ضروری مہم کے لئے کہ ہزارہا لوگ ان کے پنجہ سے نکلتے جاتے ہیں اور بزعم ان کے وہ کافر بنتے جاتے ہیں چند درہم کرایہ کے لئے جیب سے نکالنا کوئی بڑی مصیبت نہیں اور اگر کوئی شخص ایسا ہی 3