دینے کے بعد کچھ اور چیز بن جاتا ہے یا خدا کو اطلاع دینے کے بعد دعا اور توبہ اور صدقہ کے ذریعہ سے اس کو ٹال دینا ناگوار معلوم ہونے لگتا ہے اور قبل از اطلاع اس کو ٹالنا ناگوار معلوم نہیں ہوتا۔ افسوس کہ نادان لوگ خدا تعالیٰ کے وعدہ اور اس کی وعید میں کچھ فرق نہیں سمجھتے۔ وعید میں دراصل کوئی وعدہ نہیں ہوتا صرف اس قدر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قُدوسیّت کی وجہ سے تقاضا فرماتا ہے کہ شخص مجرم کو سزا دے اور بسا اوقات اس تقاضا سے اپنے ملہمین کو اطلاع بھی دے دیتا ہے پھر جب شخص مجرم تو بہ اور استغفار اور تضرع اور زاری سے اُس تقاضاؔ کا حق پورا کر دیتا ہے تو رحمت الٰہی کا تقاضا غضب کے تقاضا پر سبقت لے جاتا ہے اور اس غضب کو اپنے اندر محجوب و مستور کر دیتا ہے ۔ یہی معنے ہیں اس آیت کے کہ 33۱ یعنی رحمتی سبقت غضبی ۔ اگر یہ اصول نہ مانا جائے تو تما م شریعتیں باطل ہو جاتی ہیں۔ پس کس قدر ہمارے مخالفوں پر افسوس ہے کہ وہ میرے کینہ کے لئے شریعت اسلامیہ پر تبر چلاتے ہیں۔ وہ جب حق بات سنتے ہیں تو تقویٰ سے کام نہیں لیتے بلکہ اس فکر میں لگ جاتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس کو رد کرنا چاہیے۔نہ معلوم کہ وہ معارف حقّہ کو رد کرتے کرتے کہاں تک پہنچیں گے۔ یہ جو لکھا ہے کہ اولیاء کے مقابلہ سے سلب ایمان کا خطرہ ہے وہ خطرہ اس وجہ سے بھی پیدا ہوتا ہے کہ صدیقوں اور اولیاء کی باتیں سچائی کے چشمہ سے نکلتی ہیں اور ستون ایمان ہوتی ہیں مگر اُن کا مخالف اپنا یہ اصول مقرر کر لیتا ہے کہ ان کی ہر ایک بات کو رد کرتا جائے اور کسی کو قبول نہ کرے کیونکہ حسد اور عداوت بُری بلا ہے لہٰذا ایک دن کسی ایسے مسئلہ میں مخالفت کر بیٹھتا ہے جس سے ایمان فی الفور رخصت ہو جاتا ہے مثلاً جیسا کہ یہ مسئلہ کہ خدا کاعذاب کا ارادہ