ہے کہ اس اعتراض کرتے وقت اس قصّہ کو یاد نہیں کرتے اور اس جگہ حدیث کے لفظ یہ ہیں کہ قال لن ارجع الیھم کذّابًا یعنی یونس نے کہا کہ اب میں جھوٹا کہلاکر پھر اس قوم کی طرف ہرگز نہیں جاؤں گا۔ اگر حدیث پر اعتبار ہے تو در منثور میں اس موقع کی تفسیر میں حدیثیں دیکھ لو اور اگر عیسائیوں کی بائبل پراعتبار ہے تو یونہ نبی کی کتاب کو دیکھو آخر کسی وقت تو شرم چاہیئے ۔ بے حیائی اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے اس ناانصافی اور ظلم کاخدا تعالیٰ کے پاس کیا جواب دوگے کہ تم لوگوں نے سو ۱۰۰ پیشگوئی صفائی سے پوری ہوتے دیکھی اس سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور ایک دو پیشگوئیاں جن کو تم لوگ اپنی ہی جہالت سےؔ سمجھ نہ سکے جو مشروط بشرائط تھیں ان پر شور مچا دیا۔ مگر یہ شور مجھ سے اور میری پیشگوئیوں سے خاص نہیں ہے۔ بھلا کسی ایسے نبی کا تو نام لو جس کی بعض پیشگوئیوں کی نسبت جاہلوں نے شور نہ مچایا ہو کہ وہ پوری نہیں ہوئیں۔ میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ وعید یعنی عذاب کی پیشگوئیوں کی نسبت خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ خواہ پیشگوئی میں شرط ہو یا نہ ہو تضرّع اور توبہ اور خوف کی وجہ سے ٹال دیتا ہے۔ اس پر صرف یونس کا قصّہ ہی گواہ نہیں بلکہ قرآن اور حدیث اور تمام نبیوں کی کتابوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ جب کسی کو عذاب دینے کا ارادہ فرماتا ہے اور اُ س پر کوئی بلا نازل کرنا چاہتا ہے تو وہ بلا دعا اور توبہ اور صدقات سے ٹل سکتی ہے اب ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ جو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہے اگر اپنے اس ارادہ پر کسی نبی یارسول یا محدث کو مطلع کردے تو اس صورت میں وہی ارادہ پیشگوئی کہلاتا ہے ۔ پس جبکہ مانا گیا ہے کہ وہ ارادہ دعا اور صدقہ اور خیرات سے ٹل سکتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ محض اس سبب سے کہ اس ارادہ کی کسی ملہم کو اطلاع بھی دی گئی ہے ٹل نہیں سکتا۔ کیا وہ ارادہ اطلاع