مولویوں میں بڑا ماتم پیدا کیا اور محمد حسین نے لکھا کہ یقیناًاس شخص کو علم نجوم آتا ہے جس کی پیشگوئی ایسی صفائی سے پوری ہوگئی‘‘۔ مگر احمد بیگ کے داماد اور اس کے والدین اور اقارب نے جب یہ ہولناک نمونہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو ایسا خوف طاری ہوا کہ قبل از مُردن مُردہ سمجھ لیا گیا اس لئے جیسا کہ انسان کی فطرت میں داخل ہے اس مشاہدہ سے بہت رجوع الی اللہ ان کے دلوں میں پیدا ہوا اور بعض نے مجھ کو خط لکھے کہ تقصیر معاف کریں اور ان کے گھروں میں دن رات ماتم شروع ہوا اور صدقہ خیرات اور نماز روزہ میں لگ گئے اور اس گاؤں کے لوگ عورتوں کارونا اور چیخنا سنتے رہے غرض ؔ وہ تمام زن و مرد خوف سے بھر گئے او ریونس کی قوم کی طرح اُس عذاب کو دیکھ کر توبہ اور صدقہ او رخیرات میں مشغول ہوگئے۔ پھر سوچ لو کہ ایسی حالت میں ان کے ساتھ خدا تعالیٰ کا کیا معاملہ ہونا چاہیئے تھا۔ ایساہی ڈپٹی آتھم بھی احمد بیگ والے نشان کو سن چکا تھا اور بذریعہ اخبارات او راشتہارات کے یہ نشان لاکھوں انسانوں میں مشہور ہوچکا تھا اس لئے اس نے بھی پیشگوئی کے سننے کے بعد خوف اور ہراس کے آثار ظاہر کئے۔ لہٰذا پیشگوئی کی شرط کے موافق خدا نے تاخیر دی کیونکہ شرط خدا کا وعدہ تھا اور وہ اپنے وعدہ کے برخلاف نہیں کرتا۔ یہ تمام دنیا کا مانا ہوا مسئلہ اور اہل اسلام اور نصاریٰ اور یہود کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی بغیر شرط توبہ اور استغفار اور خوف کے بھی ٹل سکتی ہے جیسا کہ یونس نبی کی چالیس دن کی پیشگوئی جس کے ساتھ کوئی شرط نہ تھی ٹل گئی اور نینوا کے رہنے والے جو ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے ان میں سے ایک بچہ بھی نہ مرا اور یونس نبی اس خیال اور اس ندامت سے کہ میری پیشگوئی جھوٹی نکلی اپنے ملک سے بھاگ گیا۔ اب سوچو کہ کیا یہ ایمانداری