اے دریغا قوم من نشناختند
نقد ایماں درحسدہا باختند
ایں جہانِ پُرستم کور وکر است
چشمِ شاں از چشم بوماں کمتراست
ذرّۂ بودم مرا بنواختند
چوں خورے گشتم زچشم انداختند
میاں عبد الحق صاحب غزنوی نے ایک اشتہار نکالا ہے جو درحقیقت مولوی عبدالجبار اور اُن کے بھائیوں کی طرف سے معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم۔ اس اشتہار میں جس قدر سخت زبانی اور ٹھٹھا اور ہنسی ہے جو قدیم سے طریق سفہاء کا ہے اس کو ہم خداؔ تعالیٰ کے عدل کے سپرد کرکے اصل باتوں کا جواب دیتے ہیں وَ بِاللّٰہ التّوفیق۔
یہ اشتہار دو رنگ کے حملوں پر مشتمل ہے ۔ اوّل میاں عبد الحق نے بعض گذشتہ نشانوں اور پیشگوئیوں کو جو فی الواقع پوری ہوچکیں یا وہ جو عنقریب پوری ہونے کو ہیں پیش کرکے عام لوگوں کو یہ دھوکہ دینا چاہا ہے کہ گویا وہ پوری نہیں ہوئیں۔ مثلاً وہ اپنے اشتہار میں لکھتا ہے کہ ڈپٹی آتھم اور احمد بیگ ہوشیارپوری اور اس کے داماد والی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ مگر ہمیں تعجب ہے کہ مولوی کہلاکر پھر ایسا گندہ جھوٹ بولنا ان لوگوں کی طبیعت کیونکر گوارا کر لیتی ہے کس کو معلوم نہیں کہ یہ دونوں پیشگوئیاں رجوع الی الحق اور توبہ کی شرط کے ساتھ مشروط تھیں۔ مگر احمد بیگ بباعث اس کے کہ اس کی نظر کے سامنے کوئی ہیبت ناک نمونہ موجود نہیں تھا اس شرط سے فائدہ اٹھانہ سکا اور پیشگوئی کی منشاء کے موافق عین میعاد کے اندر فوت ہوگیا اور اس کی موت نے صفائی سے پیشگوئی کی ایک ٹانگ کو پورا کرکے دکھلا دیا۔ احمد بیگ وہ شخص تھا جس کی موت نے مخالف