وقت تک قائم رہو۔
یہ وہ میرے سلسلہ کے اصول ہیں جو اس سلسلہ کے لئے امتیازی نشان کی طرح ہیں جس انسانی ہمدردی اور ترک ایذاء بنی نوع اور ترک مخالفت حکام کی یہ سلسلہ بنیاد ڈالتا ہے دوسرے مسلمانوں میں اس کا وجود نہیں اُن کے اصول اپنی بے شمار غلطیوں کی وجہ سے اور طرز کے ہیں جن کی تفصیل کی حاجت نہیں اور نہ یہ ان کا موقع ہے۔
اوروہ نام جو اِس سلسلہ کے لئے موزوں ہے جس کو ہم اپنے لئے اور اپنی جماعت کے لئے پسند کرتے ہیں وہ نام مسلمان فرقہ احمدیہ ہے اور جائز ہے کہ اِس کو احمدی مذہب کے مسلمان کے نام سے بھی پکاریں۔ یہی نام ہے جس کے لئے ہم ادب سے اپنی معزّز گورنمنٹ میں درخواست کرتے ہیں کہ اسی نام سے اپنے کاغذات اور مخاطبات میں اِس فرقہ کو موسوم کرے یعنی مسلمان فرقہ احمدیہ۔
جہاں تک میرے علم میں ہے میں یقین رکھتا ہوں کہ آج تک تیس ہزار کے قریب متفرق مقامات پنجاب اور ہندوستان کے لوگ اس فرقہ احمدیہ میں داخل ہوچکے ہیں اور جو لوگ ہر ایک قسم کے بدعات اور شرک سے بیزار ہیں اور دل میں یہ فیصلہ بھی کرلیتے ہیں کہ ہم اپنی گورنمنٹ برطانیہ سے منافقانہ زندگی کرنا نہیں چاہتے۔ اور صلح کاری اور بُردباری کی فطرت رکھتے ہیں وہ لوگ بکثرت اِس فرقہ میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور عموماً عقلمندوں کی اس طرف ایک تیز حرکت ہو رہی ہے۔ اور یہ لوگ محض عوام میں سے نہیں ہیں بلکہ بعض بڑے بڑے معزز خاندانوں میں سے ہیں اور ہر ایک قسم کے تاجر اور ملازمت پیشہ اور تعلیم یافتہ اور علماء اسلام اوررؤساء اس فرقہ میں داخل ہیں گو