کوئی ایسا خدا اپنی طرف سے مت بناؤ جس کا وجود ان تینوں کتابوں کی متّفقعلیہ شہادت سے ثابت نہیں ہوتا۔ وہ بات مانو جس پر عقل اور کانشنس کی گواہی ہے اور خدا کی کتابیں اس پر اتفاق رکھتی ہیں۔ خدا کو ایسے طور سے نہ مانو جس سے خدا کی کتابوں میں پھوٹ پڑ جائے۔ زنا نہ کرو۔ جھوٹ نہ بولو۔ اور بدنظری نہ کرو۔ اور ہر ایک فسق اور فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کی راہوں سے بچو اور نفسانی جوشوں کے مغلوب مت ہو ۔ پنج وقت نماز ادا کرو کہ اِنسانی فطرت پر پنج طور پر ہی انقلاب آتے ہیں اور اپنے نبی کریم کے شکرگذار رہو اور اس پر درود بھیجو کیونکہ وہی ہے کہ جس نے تاریکی کے زمانہ کے بعد نئے سرے خدا شناسی کی راہ سکھلائی۔ (۴) عام خَلق اللہ کی ہمدردی کرو اور اپنے نفسانی جوشوں سے کسی کو مسلمان ہو یا غیر مسلمان تکلیف مت دو نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔ (۵) بہرحال رنج و راحت میں خدا تعالیٰ کے وفادار بندے بنے رہو اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اُس سے منہ نہ پھیرو بلکہ آگے قدم بڑھاؤ۔ (۶) اپنے رسول کی متابعت کرو اور قرآن کی حکومت اپنے سر پر لے لوکہ وہ خدا کاکلام اور تمہارا سچا شفیع ہے۔ (۹) اسلام کی ہمدردی اپنی تمام قوتوں سے کرو اور زمین پر خدا کے جلال اور توحید کو پھیلاؤ۔ (۱۰) مجھ سے اِس غرض سے بیعت کرو کہ تا تمہیں مجھ سے رُوحانی تعلق پیدا ہو اور میرے درخت وجود کی ایک شاخ بن جاؤ اور بیعت کے عہد پر موت کے ایڈیشن اول میں کاتب کی غلطی سے آگے نمبر ۷،۸ کی بجائے ۹ اور ۱۰ لکھے ہیں۔ (شمسؔ