بہت کچھ عام مسلمانوں کی طرف سے یہ فرقہ ایذا بھی پارہا ہے لیکن چونکہ اہلِ عقل دیکھتے ہیں کہ خدا سے پوری صفائی اور اس کی مخلوق سے پوری ہمدردی اور حکام کی اطاعت میں پوری طیاری کی تعلیم اسی فرقہ میں دی جاتی ہے اِس لئے وہ لوگ طبعاً اِس فرقہ کی طرف مائل ہوتے جاتے ہیں اور یہ خدا کافضل ہے کہ بہت کچھ مخالفوں کی طرف سے کوششیں بھی ہوئیں کہ اِس فرقہ کو کسی طرح نابود کردیں مگر وہ سب کوششیں ضائع گئیں کیونکہ جو کام خدا کے ہاتھ سے اور آسمان سے ہو اِنسان اس کو ضایع نہیں کرسکتا۔ اور اِس فرقہ کا نام مسلمان فرقہ احمدیہ اس لئے رکھا گیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے ایک محمد صلی اللہ علیہ و سلم۔ دوسرا احمد صلی اللہ علیہ و سلم اور اسم محمد جلالی نام تھا اور اس میں یہ مخفی پیشگوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اُن دشمنوں کو تلوار کے ساتھ سزا دیں گے جنہوں نے تلوار کے ساتھ اسلام پر حملہ کیا اور صدہا مسلمانوں کو قتل کیا ۔ لیکن اسم احمد جمالی نام تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آشتی اور صلح پھیلائیں گے۔سو خدا نے اِن دو ناموں کی اِس طرح پر تقسیم کی کہ اوّل آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی مکہ کی زِندگی میں اسم احمد کا ظہور تھا اور ہر طرح سے صبر اور شکیبائی کی تعلیم تھی۔ اور پھر مدینہ کی زندگی میں اسمِ محمد کا ظہور ہوا اور مخالفوں کی سرکوبی خدا کی حکمت اور مصلحت نے ضروری سمجھی۔ لیکن یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں پھر اسم احمد ظہور کرے گا اور ایسا شخص ظاہر ہوگا جس کے ذریعہ سے احمدی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی اور تمام لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔پس اسی وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام فرقہ احمدیہ رکھا جائے تا اِس نام کو سنتے ہی ہر ایک شخص سمجھ لے کہ یہ فرقہ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلانے آیا ہے اور جنگ اور لڑائی سے اِس فرقہ کو کچھ سروکار نہیں۔ سو اے دوستو