تھی ۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مثیل فرعون یعنی ابوجہل کو جو والی مکہ سمجھا جاتا تھا اور عرب کے نواح کا فرماں روا تھا ہلاک کرکے اپنی قوم کو سلطنت عطا کی اور جیسا کہ موسیٰ نے کِسی پہلے نبی سے اصطباغ نہیں پایا خود خدا نے اس کو سکھلایا۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُستاد بھی خدا تھا کسی نبی کی مریدی اختیار نہیں کی۔
غرض ان چار باتوں میں محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام میں مماثلت تھی اور میں ابھی بیان کرچکا ہوں کہ جیسا کہ حضرت موسیٰ کا سلسلہ ایک ایسے نبی پر ختم ہواجو چودہ سو برس کے ختم ہونے پر آیا اور باپ کے رُو سے بنی اسرائیل میں سے نہیں تھا اور نہ جہاد کے ساتھ ظاہر ہوا تھا اور نہ اسرائیلی سلطنت کے اندر پیدا ہوا۔
یہی تمام باتیں خدا نے محمدی مسیح کے لئے پیدا کیں۔ چودھویں صدی کے سرپر مجھے مامور کرنا اسی حکمت کے لئے تھا کہ تا اسرائیلی مسیح اور محمدی مسیح اُس فاصلہ کے رُو سے جو اُن میں اور اُن کے مورث اعلیٰ میں ہے باہم مشابہ ہوں۔ اور مجھے خدانے قریش میں سے بھی پیدا نہیں کیا تا پہلے مسیح سے یہ مشابہت بھی حاصل ہو جائے کیونکہ وہ بھی بنی اسرائیل میں سے نہیں اور میں تلوار کے ساتھ بھی ظاہر نہیں ہوا اور میری بادشاہت آسمانی ہے اور یہ بھی اس لئے ہوا کہ تا وہ مشابہت قائم رہے اور میں انگریزی سلطنت کے ماتحت مبعوث کیا گیا اور یہ سلطنت رُومی سلطنت کے مشابہ ہے اور مجھے اُمید ہے کہ اس سلطنت کے میرے ساتھ شاہانہ اخلاق رُومی سلطنت سے بہتر ظاہرؔ ہوں گے اور میری تعلیم وہی ہے جو میں اشتہار ۱۲؍ جنوری ۱۸۹۹ ء میں ملک میں شایع کرچکاہوں اور وہ یہ کہ اُسی خدا کو مانو جس کے وجود پر توریت اور انجیل اور قرآن تینوں متّفق ہیں۔