غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ کی طرح اپنی قوم کے راستبازوں کو درندوں اور خونیوں سے نجات دی اور موسیٰ کی طر ح اُن کو مکہ سے مدینہ کی طرف کھینچ لایا اور ابوجہل کو جو اس اُمّت کا فرعون تھا بدر کے میدانِ جنگ میں ہلاک کیا۔ اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توریت باب ۱۸ آیت ۱۸ کے وعدہ کے موافق موسیٰ کی طرح ایک نئی شریعت ان لوگوں کو عطا کی جو کئی سو برس سے جاہل اور وحشی چلے آتے تھے اور جیسے بنی اسرائیل چار سو برس تک فرعون کی غلامی میں رہ کر وحشیوں کی طرح ہوگئے تھے۔ یہ لوگ بھی عرب کے جنگلوں میں رہ کر اُن سے کم نہ تھے بلکہ وحشیانہ حالت میں بہت بڑھ گئے تھے یہاں تک کہ حلال حرام میں بھی کچھ فرق نہیں کرسکتے تھے۔ پس ان لوگوں کے لئے قرآن شریف بالکل ایک نئی شریعت تھی اور اُس شریعت کے موافق تھی جو کوہ سینا پر بنی اسرائیل کو ملی تھی۔
تیسر۳ی مماثلت حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ سے یہ تھی کہ جیسا کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے اپنی قوم کو سلطنت عطا کی
نہیں رکھتا تھا؟ پس سچ بات یہ ہے کہ ہریک جو خدا کے پیار کا دعویٰ کرتا ہے ایک وقت میں ایک
حالت موت کے مشابہ ضرور اُس پر آجاتی ہے سو اسی سُنت اللہ کے موافق مسیح پر بھی وہ حالت آگئی مگر جتنی نظیریں ہم نے پیش کی ہیں وہ گواہی دے رہی ہیں کہ اُن تمام نبیوں میں سے ایسے امتحان کے وقت کوئی بھی نبی ہلاک نہیں ہوا۔ آخر قریب موت پہنچ کر جبکہ اُن کے روحوں سے ایلی ایلی لما سبقتنیکا نعرہ نکلا تب یک مرتبہ خدا کے فضل نے ان کو بچا لیا۔ پس جس طرح ا براہیم آگ سے اور یوسف کوئیں سے اور ابراہیم کا ایک پیارا بیٹا ذبح سے اور اسماعیل پیاس کی موت سے بچ گیا۔ اِسی طرح مسیح بھی صلیب سے بچ گیا۔ وہ موت کا حملہ ہلاک کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ ایک نشان دکھلانے کے لئے تھا۔ منہ