دوسروں کو قتل کرکے بڑا ثواب سمجھتے تھے گویا بہشت کی کنجی بے گناہ انسانوں کو قتل کرنا تھا۔ تب خدا نے حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد اپنا مسیح اُن میں بھیجا جو لڑائیوں کا سخت مخالف تھا وہ درحقیقت صلح کا شہزادہ تھا اور صلح کا پیغام لایا لیکن بدقسمت یہودیوں نے اس کا قدر نہ کیا اس لئے خدا کے غضب نے عیسیٰ مسیح کو اسرائیلی نبوت کے لئے آخری اینٹ کردیا۔اور اُس کو بے باپ پیدا کرکے سمجھا دیا کہ اب نبوت اسرائیل میں سے گئی۔ تب خداوندنے یہودیوں کو نالائق پاکر ابراہیم کے دوسرے فرزند کی طرف رُخ کیا۔ یعنی اسماعیل کی اولاد میں سے پیغمبر آخر الزمان پیدا کیا۔ یہی مثیل موسیٰ تھا جس کا نام محمد ؐ ہے۔ اس نام کا ترجمہ یہ ہے کہ نہایت تعریف کیا گیا۔ خدا جانتا تھا کہ بہت سے نافہم مذمت کرنے والے پیدا ہوں گے اس لئے اس نے اس کا نام محمد ؐ رکھ دیا۔ جبکہ آنحضرت شکم آمنہ عفیفہ میں تھے تب فرشتہ نے آمنہ پر ظاہرہوکر کہا تھا کہ تیرے پیٹ میں ایک لڑکا ہے جو عظیم الشان نبی ہوگا۔ اس کا نام محمدؐ رکھنا۔ آگے یوسف کا مصنوعی طور پر خون آلودہ کرتہ ڈال دیا گیا اور پھر مُدّت دراز تک یعقوب کو ایک مسلسل غم میں ڈالا گیا کیا یہ نظارہ بھی کچھ کم تھا؟ اور جب یوسف کو مشکیں باندھ کر کوئیں میں پھینک دیا گیا تو کیا یہ دردناک نظارہ اس نظارہ سے کچھ کم تھا جب مسیح کو صلیب پر چڑھا یا گیا ؟ اور پھر کیا نبی آخر الزمان کی مصیبت کا وہ نظارہ کہ جب غار ثور کا ننگی تلواروں کے ساتھ محاصرہ کیا گیا کہ اسی غار میں وہ شخص ہے جو نبوت کادعویٰ کرتاہے اس کو پکڑو اور قتل کرو تو کیا یہ نظارہ اپنی رُعب ناک کیفیت میں صلیبی نظارہ سے کچھ کم تھا؟ اور کیا ابھی اِسی زمانہ کا یہ نظارہ کہ جب ڈاکٹر مارٹن کلارک نے مثیل مسیح پر جو یہی عاجز ہے اقدام قتل کا ایک جھوٹا دعویٰ کیا۔ اور تینوں قوموں ہندوؤں اور مسلمانوں اور عیسائیوں میں سے سربرآور دہ علماء کوشش کرتے تھے کہ یہ سزا پاوے۔ تو کیا یہ نظارہ مسیح کے صلیبی نظارہ سے کچھ مشابہت