دین و دنیا میں فضل کرے) رومی سلطنت سے نہایت درجہ مشابہ ہے۔ اور ضرور تھا کہ دوسرا مسیح بھی تلوار کے ساتھ نہ آتا اور اس کی بادشاہت صرف آسمان میں ہوتی سو ایسا ہی ظہور میں آیا اور خدا نے مجھے تلوارکے ساتھ نہیں بھیجا اور نہ مجھے جہاد کا حکم دیا بلکہ مجھے خبردی کہ تیرے ساتھ آشتی اور صلح پھیلے گی۔ ایک درندہ بکری کے ساتھ صلح کرے گا او ر ایک سانپ بچوں کے ساتھ کھیلے گا۔ یہ خدا کا ارادہ ہے گو لوگ تعجب کی راہ ؔ سے دیکھیں۔ غرض میں اِس لئے ظاہر نہیں ہوا کہ جنگ وجدل کا میدان گرم کروں۔ بلکہ اِس لئے ظاہر ہوا ہوں کہ پہلے مسیح کی طرح صلح اور آشتی کے دروازے کھول دوں۔ اگر صلح کاری کی بنیاد درمیان نہ ہو تو پھر ہمارا سارا سلسلہ فضول ہے اور اس پر ایمان لانا بھی فضول۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلا مسیح بھی اُس*وقت آیا تھا جب یہود میں خانہ جنگیاں کثرت سے پھیل گئی تھیں۔ اور اُن کے گھر ظلم اور تعدی سے بھر گئے تھے اور سخت دِلی اُن کی عادت ہوگئی تھی اور سرحدی افغانوں کی طرح وہ لو گ بھی * پہلے مسیح کو جو خدا بنایا گیا یہ کوئی صحیح اور واقعی امر نہیں تھا تا دوسرے مسیح میں اس کی مشابہت تلاش کی جائے بلکہ انسانی غلطیوں میں سے یہ بھی ایک غلطی تھی اور اصل فلاسفی اس مسئلہ میں یہ ہے کہ کوئی نبی نبیوں میں سے خدا کا پیارا نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی ولی ولیوں میں سے اُس کا محبوب ٹھہر سکتا ہے جب تک کہ ایک مرتبہ موت کا خوف یا موت کے مشابہ اس پر ایک واقعہ وارد نہ ہولے۔ اور اسی پر سنت اللہ قدیم سے جاری ہے۔ جب ابراہیم آگ میں ڈالا گیا تو کیا یہ نظارہ صلیب کے واقعہ سے کچھ کم تھا اور جب اس کو حکم ہوا کہ تو اپنے پیارے فرزند کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر۔ تو کیا یہ واقعہ ابراہیم کے لئے اور اس کے اس فرزند کے لئے جس پر چھری چلائی گئی سولی کی دہشت سے کچھ کم درجہ پر تھا؟ اور یعقوب کے خوف کا وہ نظارہ جبکہ اس کو سنایا گیا کہ تیرا پیارا فرزند یوسف بھیڑیئے کا لقمہ ہوگیا اور اس کے