کی مختصرطور پر لائف یہ ہے کہ خدا نے پہلی قوموں کو دُنیا سے اُٹھاکر دنیا کو نیکی کا سبق دینے کے لئے ابراہیم کی نسل سے دو سلسلے شروع کئے ایک سلسلہ موسیٰ جس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شروع کرکے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پرختم کیا گیا۔ دوسرا سلسلہ مثیلِ موسیٰ یعنی سلسلہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو خدا کے اس وعدہ کے موافق ہے جو توریت استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ میں کیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ سلسلہ موسویہ کی ایک پوری نقل ہے جو مثیل موسیٰ سے شروع ہوکر مثیل مسیح تک ختم ہوا اور عجیب تر یہ کہ جو مُدّت خدا نے موسیٰ سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک رکھی تھی یعنی چودہ سو برس اسی مُدّت کی مانند اس سلسلہ کی مُدّت بھی رکھی گئی۔ اور موسوی خلافت کا سلسلہ جس نبی پر ختم ہوا یعنی مسیح پر نہ وہ بنی اسرائیل میں سے پیدا ہواکیونکہ اس کا کوئی اسرائیلی باپ نہ تھا اور نہ وہ موسیٰ اور یشوعا کی طرح تلوار کے ساتھ ظاہر ہوا اور نہ وہ ایسے ملک اور وقت میں جس میں اسرائیلی سلطنت ہوتی پیدا ہوا بلکہ وہ رومی سلطنت کے ایّام میں ان اسرائیلی آبادیوں میں وعظ کرتارہا جو پیلاطوس کے علاقہ میں تھیں۔
اب جب کہ پہلے مسیح نے نہ تلوار اُٹھائی اور نہ وہ بوجہ نہ ہونے باپ کے بنی اسرائیل میں سے تھا اور نہ اسرائیلی سلطنت کو اس نے اپنی آنکھ سے دیکھا۔ اِس لئے دوسرا مسیح جو انجیل متی ۱۷ باب آیت ۱۰ و ۱۱و ۱۲ کے رُو سے پہلے مسیح کے رنگ اور طریق پر آنا چاہیئے تھا جیسا کہ یوحنا نبی ایلیا کے رنگ پر آیا تھا ضرور تھا کہ وہ بھی قریش میں سے نہ ہوتا جیسا کہ یسوع مسیح بنی اسرائیل میں سے نہیں تھا اور ضرور تھا کہ دوسرا مسیح اسلامی سلطنت کے اندر پیدا نہ ہوتا اور ایسی سلطنت کے ماتحت مبعوث ہوتا جو رُومی سلطنت کے مشابہ ہوتی سو ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ جہاں تک ہمیں علم ہے ہم جانتے ہیں کہ ہماری یہ سلطنت برطانیہ (خدا اِس پر