ایسا ہی خدا کی رحیمیّت یعنی کسی کے نیک کام میں اس کام کی تکمیل کے لئے مدد کرنا۔ یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ سچا عابد جو خدائی صفات کا عاشق ہے اس صفت کو اپنے اندر حاصل کرتاہے۔ ایسا ہی خداؔ کاانصاف جس نے ہر ایک حکم عدالت کے تقاضا سے دیا ہے نہ نفس کے جوش سے یہ بھی ایک ایسی صفت ہے کہ سچا عابد کہ جو تمام الٰہی صفات اپنے اندر لینا چاہتا ہے اس صفت کو چھوڑ نہیں سکتا اور راستباز کی خود بھاری نشانی یہی ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کے لئے اِن چار صفتوں کو پسند کرتا ہے ایسا ہی اپنے نفس کے لئے بھی یہی پسند کرے لہٰذا خدا نے سورۃ فاتحہ میں یہی تعلیم کی تھی جس کو اس زمانہ کے مسلمان ترک کر بیٹھے ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ دنیا میں اکثر مسلمان باستثناء قدر قلیل کے دو قسم کے ہیں۔
ایک۱ وہ علماء جو آزادی کے ملکوں میں رہ کر علانیہ جہاد کی تعلیم کرتے اور مسلمانوں کو اِس کے لئے ابھارتے ہیں اور اُن کے نزدیک بڑا کام دینداری کا یہی ہے کہ نوع انسان کو مذہب کے لئے قتل کیا جائے۔ وہ اِس بات کو سنتے ہی نہیں کہ خدا فرماتا ہے کہ 3 ۱ یعنی دین کو جبر سے شائع نہیں کرناچاہیئے۔
(۲) دوسرا فرقہ مسلمانوں کا یہ بھی پایا جاتا ہے کہ وہ خفیہ طور پرتو اُس پہلے فرقہ کے ہم رنگ ہیں مگر کسی گورنمنٹ کو خوش کرنے کے لئے تقریراً یا تحریراً ظاہر کرتے رہتے ہیں کہ ہم جہاد کے مخالف ہیں۔ اُن کے امتحان کا ایک سہل طریق ہے۔ مگر اس جگہ اِس کے لکھنے کا موقع نہیں۔ جس شخص کو خدا نے قوت کانشنس عطا کی ہے اور نورِ قلب بخشا ہے وہ ایسے لوگوں کو اِس طرح پر پہچان لے گا کہ اُن کے عام تعلقات کس قسم کے لوگوں سے ہیں۔ مگر اس جگہ ہمارا مدعا صرف اپنا مشن بیان کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم ایسے جہادوں کے سخت مخالف اور نہایت سخت مخالف ہیں۔ ہمارے اِس الٰہی فرقہ