فرقہ میں تلوار کاجہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اِس بات کو حرام جانتا ہے کہ دین کی اشاعت کے لئے لڑائیاں کی جائیں یا دین کے بغض اور دشمنی کی وجہ سے کسی کو قتل کیاجائے یا کسی اور نوع کی ایذا دی جائے یا کسی انسانی ہمدردی کا حق بوجہ کسی اجنبیّت مذہب کے ترک کیاجائے یا کسی قسم کی بے رحمی اور تکبّر اور لاپروائی دکھلائی جائے۔ بلکہ جو شخص عام مسلمانوں میں سے ہماری جماعت میں داخل ہوجائے اُس کا پہلا فرض یہی ہے کہ جیسا کہ وہ قرآن شریف کی سورۃ فاتحہ میں پنج وقت اپنی نماز میں یہ اقرار کرتا ہے کہ خدا ربّ العالمین ہے اور خدا رحمن ہے اور خدا رحیم ہے اورخدا ٹھیک ٹھیک انصاف کرنے والا ہے۔ یہی چاروں صفتیں اپنے اندر بھی قائم کرے۔ ورنہ وہ اس دُعا میں کہ اسی سورۃ میں پنج وقت اپنی نماز میں کہتا ہے کہ 3۱؂ یعنی اے ان چار صفتوں والے اللہ میں تیرا ہی پرستار ہوں اور توہی مجھے پسند آیا ہے سراسر جھوٹا ہے۔ کیونکہ خدا کی ربوبیت یعنی نوع انسان اور نیز غیر انسان کا مربی بننا اور ادنیٰ سے ادنیٰ جانور کو بھی اپنی مربیانہ سیرت سے بے بہرہ نہ رکھنا یہ ایک ایسا امر ہے کہ اگر ایک خدا کی عبادت کادعویٰ کرنے والا خدا کی اس صفت کو محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کو پسند کرتا ہے یہاں تک کہ کمال محبت سے اِس الٰہی سیرت کا پرستار بن جاتا ہے تو ضروری ہوتا ہے کہ وہ آپ بھی اس صفت اور سیرت کو اپنے اندر حاصل کرلے تا اپنے محب کے رنگ میں آجائے۔ ایسا ہی خدا کی رحمانیت یعنی بغیر عوض کسی خدمت کے مخلوق پر رحم کرنا یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ سچا عابد جس کو یہ دعویٰ ہے کہ میں خدا کے نقشِ قدم پر چلتا ہوں ضرور یہ خُلق بھی اپنے اندر پیدا کرتاہے۔