اپنیؔ جماعت کے لئے اِطلاع یاد رہے کہ یہ اشتہار محض اس غرض سے شائع کیاجاتا ہے کہ تا میری جماعت خدا کے آسمانی نشانوں کو دیکھ کر ایمان اور نیک عملوں میں ترقی کرے اور ان کو معلوم ہوکہ وہ ایک صادق کا دامن پکڑ رہے ہیں نہ کاذب کا۔ اور تاوہ راستبازی کے تمام کاموں میں آگے بڑھیں اور اُن کا پاک نمونہ دنیا میں چمکے۔ اِن دنوں میں وہ چاروں طرف سے سن رہے ہیں کہ ہر ایک طرف سے مجھ پر حملے ہوتے ہیں اور نہایت اصرار سے مجھ کو کافر اور دجّال اور کذّاب کہا جاتا ہے اور قتل کرنے کے لئے فتوے لکھے جاتے ہیں۔ پس ان کو چاہیئے کہ صبر کریں اور گالیوں کا گالیوں کے ساتھ ہرگز جواب نہ دیں اور اپنا نمونہ اچھا دکھاویں۔ کیونکہ اگر وہ بھی ایسی ہی درندگی ظاہر کریں جیسا کہ اُ ن کے مقابل پر کی جاتی ہے تو پھر اُن میں اور دوسروں میں کیا فرق ہے۔ اِس لئے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ ہرگز اپنا اجر پا نہیں سکتے جب تک صبر اور تقویٰ اور عفو اور درگذر کی خصلت سب سے زیادہ اُن میں نہ پائی جائے۔ اگر مجھے گالیاں دی جاتی ہیں تو کیا یہ نئی بات ہے؟ کیا اِس سے پہلے خدا کے پاک نبیوں کو ایسا ہی نہیں کہا گیا؟ اگرمجھ پر بہتان لگائے جاتے ہیں تو کیا اس سے پہلے خدا کے رسولوں اور راستبازوں پر الزام نہیں لگائے گئے؟ کیا حضرت موسیٰ پر یہ اعتراض نہیں ہوئے کہ اُس نے دھوکہ دے کر ناحق مصریوں کامال کھایا اور جھوٹ بولا کہ ہم عبادت کے لئے جاتے ہیں اور جلد واپس آئیں گے اور عہد توڑا اور کئی شیرخوار بچوں کو قتل کیا؟ اور کیا حضرت داؤد کی نسبت نہیں کہا گیا کہ