اِن تین سال میں جو اخیر دسمبر ۱۹۰۲ ؁ء تک ختم ہو جائیں گے کوئی ایسانشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالا تر ہو۔ جبکہ تو نے مجھے مخاطب کرکے کہاکہ میں تیری ہرایک دعاقبول کروں گا مگر شرکاء کے بارے میں نہیں۔ تبھی سے میری روح دعاؤں کی طرف دوڑتی ہے۔ اور میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کا فر اور بے دین اور خائن ہوں جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔ اگر میں تیرامقبول ہوں تو میرے لئے آسمان سے ان تین برسوں کے اندر گواہی دے تا ملک میں امن اور صلح کاری پھیلے اورتا لوگ یقین کریں کہ تو موجود ہے اوردعاؤں کو سنتا اور اُن کی طرف جو تیری طرف جھکتے ہیں جھکتا ہے۔ اب تیری طرف اور تیرے فیصلہ کی طرف ہر روز میری آنکھ رہے گی جب تک آسمان سے تیری نصرت نازل ہو۔ اور میں کسی مخالف کو اِس اشتہار میں مخاطب نہیں کرتا اور نہ اُن کو کسی مقابلہ کے لئے بلاتا ہوں۔ یہ میری دعا تیری ہی جناب میں ہے کیونکہ تیری نظر سے کوئی صادق یا کاذب غائب نہیں ہے۔ میری روح گواہی دیتی ہے کہ تو صادق کو ضائع نہیں کرتا اور کاذب تیری جناب میں کبھی عزت نہیں پاسکتا اور وہ جو کہتے ہیں کہ کاذب بھی نبیوں کی طرح تحدی کرتے ہیں اور ان کی تائید اور نُصرت بھی ایسی ہی ہوتی ہے جیسا کہ راستباز نبیوں کی وہ جھوٹے ہیں اور چاہتے ہیں کہ نبوت کے سلسلہ کو مشتبہ کردیں بلکہ تیرا قہر تلوار کی طرح مفتری پر پڑتا ہے اور تیرے غضب کی بجلی کذّاب کو بھسم کر دیتی ہے مگر صادق تیرے حضور میں زندگی اور عزت پاتے ہیں۔ تیری نُصرت اور تائید اور تیرا فضل اور رحمت ہمیشہ ہمارے شامل حال رہے۔ آمین ثم آمین۔ المشتھر مرزا غلام احمد از قادیاں ۵؍ نومبر ۱۸۹۹ ؁ء تعداد ۳۰۰۰۔ مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیاں