اُس نے ایک بیگانہ کی عورت سے بدکاری کی اور فریب سے اوریا نام ایک سپہ سالار کو قتل کرا دیا اور بیت المال میں ناجائز دست اندازی کی؟ اور کیا ہارون کی نسبت یہ اعتراض نہیں کیا گیا کہ اُس نے گو سالہ پرستی کرائی ؟ اور کیا یہودی اب تک نہیں کہتے کہ یسوع مسیح نے دعویٰ کیا تھا کہ میں داؤد کا تخت قائم کرنے آیا ہوں اور یسوع کے اِس لفظ سے بجز اِس کے کیا مُراد تھی کہ اُس نے اپنے بادشاہ ہونے کی پیشگوئی کی تھی جو پوری نہ ہوئی؟ اور کیونکر ممکن ہے کہ صادق کی پیشگوئی جھوٹی نکلے؟ یہودی یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ مسیح نے کہا تھا کہ ابھی بعض لوگ زندہ موجود ہوں گے کہ میں واپس آؤں گا۔ مگر یہ پیشگوئی بھی جھوٹی ثابت ہوئی اور وہ اب تک واپس نہیں آیا۔ ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اُمور پر جاہلوں کے اعتراض ہیں جیسا کہ حدیبیہ کے واقعہ پر بعض نادان مرتد ہوگئے تھے ۔ اور کیا اب تک پادریوں اور آریوں کی قلموں سے وہ تمام جھوٹے الزام ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت شایع نہیں ہوتے جو مجھ پر لگائے جاتے ہیں؟
غرض مخالفوں کاکوئی بھی میرے پر ایسا اعتراض نہیں جو مجھ سے پہلے خدا کے پاک نبیوں پر نہیں کیا گیا۔ اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ جب تم ایسی گالیاں اور ایسے اعتراض سنو تو غمگین اور دلگیر مت ہو کیونکہ تم سے اور مجھ سے پہلے خدا کے پاک نبیوں کی نسبت یہی لفظ بولے گئے ہیں۔ سو ضرور تھا کہ خدا کی وہ تمام سنتیں اور عادتیں جو نبیوں کی نسبت وقوع میں آچکی ہیں ہم میں پوری ہوں۔
ہاں یہ درست بات ہے اور یہ ہمارا حق ہے کہ جو خدا نے ہمیں عطا کیا ہے جب کہ ہم دُکھ دیئے جائیں اور ستائے جائیں اور ہمارا صدق لوگوں پر مشتبہ ہوجائے اور ہماری راہ کے آگے صدہا اعتراضات کے پتھر پڑ جائیں تو ہم اپنے خدا کے آگے روئیں اور اُس کی جناب میں تضرّعات کریں اور اُس کے نام کی زمین پر