اس جھگڑے کے فیصلہ کرنے کے لئے جو کسی حد تک پرانا ہوگیاہے اور حد سے زیادہ تکذیب اور تکفیر ہوچکی ہے کوئی ایسا برکت اور رحمت اور فضل اور صلح کاری کا نشان ظاہر کرے گا کہ وہ انسانی ہاتھوں سے برتر اور پاک تر ہوگا۔ تب ایسی کھلی کھلی سچائی کو دیکھ کر لوگوں کے خیالات میں ایک تبدیلی واقع ہوگی اور نیک طینت آدمیوں کے کینے یکدفعہ رفع ہو جائیں گے مگر جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیاہے یہ میرا ہی خیال ہے ابھی کوئی الہامی تشریح نہیں ہے۔ میرے ساتھ خدا تعالیٰ کی عادت یہ ہے کہ کبھی کسی پیشگوئی میں مجھے اپنی طرف سے کوئی تشریح عنایت کرتا ہے اور کبھی مجھے میرے فہم پر ہی چھوڑ دیتاہے۔ مگر یہ تشریح جو ابھی میں نے کی ہے اس کی ایک خواب بھی مؤید ہے جو ابھی ۲۱؍ اکتوبر ۱۸۹۹ ء کو میں نے دیکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے خواب میں محبّی اخویم مفتی محمد صادق کو دیکھا ہے اور قبل اس کے جو میں اس خواب کی تفصیل بیان کروں اس قدر لکھنا فائدہ سے خالی نہیں ہوگا کہ مفتی محمد صادق میری
اس کے معنے کھلتے ہیں ۔ مثلاً ۱۹؍ ستمبر ۱۸۹۹ ء کو خدا تعالیٰ نے مخاطب کرکے اپنا کلام مجھ پر نازل کیا۔ انا اخرجنالک زروعًا یا ابراہیم۔ یعنی اے ابراہیم ہم تیرے لئے ربیع کی کھیتیاں اُگائیں گے۔ زروع زرع کی جمع ہے اور زرع عربی زبان میں ربیع کی کھیتی یعنی کنک وجو وغیرہ کو کہتے ہیں مگر آثار ایسے نہیں ہیں کہ یہ الہام اپنے ظاہر معنوں کے رُو سے پورا ہو کیونکہ ربیع کی تخم ریزی کے ایّام گو یا گذر گئے لہٰذا مجھے صرف اجتہاد سے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ تجھے کیا غم ہے تیری کھیتیاں تو بہت نکلیں گی۔ یعنی ہم تیری تمام حاجات کے متکفل ہیں ۔ ایسا ہی ایک اور دوسرا الہام متشابہات میں سے ہے جو ۴؍ اکتوبر ۱۸۹۹ ء کو مجھے ہوا۔ اور وہ یہ ہے کہ قیصر ہند کی طرف سے شکریہ۔ اب یہ ایسا لفظ ہے کہ حیرت میں ڈالتا ہے کیونکہ میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور ہریک قابل پسند خدمت سے عاری اور قبل از موت اپنے تئیں مُردہ سمجھتا ہوں۔ میرا شکر یہ کیسا۔ سو ایسے الہام متشابہات میں سے ہوتے ہیں۔ جب تک خود خدا ان کی حقیقت ظاہر نہ کرے۔ منہ