جماعت میں سے اور میرے مخلص دوستوں میں سے ہیں جن کا گھر بھیرہ ضلع شاہ پور میں ہے۔ مگر ان دنوں میں ان کی ملازمت لاہور میں ہے۔ یہ اپنے نام کی طرح ایک محب صادق ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اپنے اشتہار ۶؍ اکتوبر ۱۸۹۹ ء میں سہواً اُن کا تذکرہ کرنا بھول گیا وہ ہمیشہ میری دینی خدمات میں نہایت جوش سے مصروف ہیں خدا اُن کو جزاءِ خیر دے۔ اب خواب کی تفصیل یہ ہے کہ میں نے مفتی صاحب موصوف کو خواب میں دیکھا کہ نہایت روشن اور چمکتا ہوا اُن کا چہرہ ہے اور ایک لباس فاخرہ جو سفید ہے پہنے ہوئے ہیں اور ہم دونوں ایک بگھی میں سوار ہیں اور وہ لیٹے ہوئے ہیں اور ان کی کمر پر میں نے ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ یہ خواب ہے اور اس کی تعبیر جو خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے یہ ہے کہ صدق جس سے میں محبت رکھتا ہوں ایک چمک کے ساتھ ظاہر ہوگا اور جیسا کہ میں نے صادق کو دیکھا ہے کہ اس کا چہرہ چمکتا ہے اسی طرح وہ وقت قریب ہے کہ میں صادق سمجھا جاؤں گا اور صدق کی چمک لوگوں پر پڑے گی۔ اور ایسا ہی ۲۰؍ اکتوبر ۱۸۹۹ ء کو خواب میں مجھے یہ دکھایا گیا کہ ایک لڑکا ہے جس کا نام عزیز ہے اور اس کے باپ کے نام کے سر پر سلطان کا لفظ ہے وہ لڑکا پکڑ کر میرے پاس لایا گیا اور میرے سامنے بٹھایا گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ ایک پتلا سا لڑکا گورے رنگ کا ہے۔ میں نے اِس خواب کی یہ تعبیر کی ہے کہ عزیز عزّت پانے والے کو کہتے ہیں اور سلطان جو خواب میں اس لڑکے کا باپ سمجھا گیا ہے۔ یہ لفظ یعنی سلطان عربی زبان میں اس دلیل کو کہتے ہیں کہ جو ایسی بیّن الظہورہو جو بباعث اپنے نہایت درجہ کے روشن ہونے کے دِلوں پر اپنا تسلّط کرلے۔ گویا سلطان کا لفظ تسلّط سے لیا گیا ہے اور سلطان عربی زبان میں ہر ایک قسم کی دلیل کو نہیں کہتے بلکہ ایسی دلیل کو کہتے ہیں کہ جو اپنی قبولیّت اور روشنی کی وجہ سے دِلوں پر قبضہ کرلے اور طبائع سلیمہ پر اُس کا تسلط تام ہو جائے۔ پس اس لحاظ سے کہ خواب میں عزیز جو سلطان کا لڑکا معلوم ہوا اِس کی یہ تعبیر ہوئی کہ ایسا نشان جو لوگوں کے