نسبت کوئی انسان کوئی بدظنی نہ کرسکے اور ایک موٹی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکے کہ یہ نشان انسانی ہاتھوں اور انسانی منصوبوں سے پاک ہے اور خاص خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے ہاتھ سے نکلا ہے۔ تبؔ ایسا نشان ظاہر ہونے سے ہر ایک سلیم طبیعت بغیر کسی شک و شبہ کے اُس انسان کو قبول کر لیتی ہے اور لوگوں کے دِلوں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی یہ بات پڑ جاتی ہے کہ یہ شخص درحقیقت سچا ہے۔ تب لوگ اس الہام کے ذریعہ سے جو خدا تعالیٰ لوگوں کے دِلوں میں ڈالتا ہے۔ اس شخص کو صادق کا خطاب*دیتے ہیں کیونکہ لوگ اس کو صادق صادق کہنا شروع کر دیتے ہیں اور لوگوں کا یہ خطاب ایسا ہوتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ نے آسمان سے خطاب دیا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ آپ ا ن کے دِلوں میں یہ مضمون نازل کرتا ہے کہ لوگ اس کو صادق کہیں۔ اب جہاں تک میں نے غور اور فکر کی ہے میں اپنے اجتہاد سے نہ کسی الہامی تشریح سے اُس الہام کے جس کو میں نے ابھی ذکر کیاہے یہی معنے کرتا ہوں ، کیونکہ ان معنوں کے لئے اس الہام کا آخری فقرہ ایک بڑا قرینہ ہے کیونکہ آخری فقرہ یہ ہے کہ ایک بڑا نشان اس کے ساتھ ہوگا۔ لہٰذا میں اپنے اجتہاد ز سے اس کے یہ معنے سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ * اس خطاب کی مثال یہ ہے کہ جیسا کہ مصر کے بادشاہ فرعون نے حضرت یوسف علیہ السلام کو صدّیق کاخطاب دیاکیونکہ بادشاہ نے جب دیکھا کہ اس شخص نے صدق اور پاک باطنی اور پرہیزگاری کے محفوظ رکھنے کے لئے بارا۱۲ں برس کا جیل خانہ اپنے لئے منظور کیا مگر بدکاری کی درخواست کو نہ مانا ۔ بلکہ ایک لحظہ کیلئے بھی دِل پلید نہ ہوا۔ تب بادشاہ نے اس راستباز کو صدیق کا خطاب دیا جیسا کہ قرآن شریف سور ۂ یوسف میں ہے ۔ 3 ۱؂ معلوم ہوتا ہے کہ انسانی خطابوں میں سے پہلا خطاب وہی تھا جو حضرت یوسف کو ملا ۔ منہ ز جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کا معاملہ وحی اور الہام کے ساتھ ہو وہ خوب جانتا ہے کہ ملہمین کو کبھی اجتہادی طور پر بھی اپنے الہام کے معنے کرنے پڑتے ہیں۔ اس طرح کے الہام بہت ہیں جو مجھے کئی دفعہ ہوئے ہیں اور بعض وقت ایسا الہام ہوتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ اِس کے کیا معنے ہیں اور ایک مدت کے بعد