اگرچہ انسانوں کے لئے بادشاہوں او ر سلاطین وقت سے بھی خطاب ملتے ہیں مگر وہ صرف ایک لفظی خطاب ہوتے ہیں جو بادشاہوں کی مہربانی اور کرم اور شفقت کی وجہ سے یا اور اسباب سے کسی کو حاصل ہوتے ہیں اور بادشاہ اس کے ذمہ وار نہیں ہوتے کہ جو خطاب اُنہوں نے دیا ہے اس کے مفہوم کے موافق وہ شخص اپنے تئیں ہمیشہ رکھے جس کو ایسا خطاب دیا گیا ہے۔ مثلاً کسی بادشاہ نے کسی کو شیر بہادر کا خطاب دیا تو وہ بادشاہ اس بات کا متکفل نہیں ہوسکتا کہ ایسا شخص ہمیشہ اپنی بہادری دکھلاتا رہے گا بلکہ ممکن ہے کہ ایسا شخص ضعف قلب کی وجہ سے ایک چو ہے کی تیز رفتاری سے بھی کانپ اُٹھتا ہوچہ جائیکہ وہ کسی میدان میں شیر کی طرح بہادری دِکھلاوے۔ لیکن وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ سے شیر بہادر کا خطاب ملے اُس کے لئے ضروری ہے کہ وہ درحقیقت بہادر ہی ہو کیونکہ خدا انسان نہیں ہے کہ جھوٹ بولے یا دھوکہ کھاوے یاکسی پولیٹیکل مصلحت سے ایسا خطاب دے دے۔جس کی نسبت وہ اپنے دل میں جانتا ہے کہ دراصل وہ شخص اس خطاب کے لائق نہیں ہے۔ اِس لئے یہ بات محقق امر ہے کہ فخر کے لائق وہی خطاب ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے اور وہ خطاب دو قسم کا ہے۔ اوّل وہ جو وحی اور الہام کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک نبیوں میں سے کسی کو صفی اللہ کا لقب دیا اور کسی کو کلیم اللہ کا اور کسی کو رُوح اللہ کا اور کسی کو مصطفےٰ اور حبیب اللہ کا۔ اِن تمام نبیوں پر خدا تعالیٰ کا سلام اور رحمتیں ہوں اور دوسری قسم خطاب کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض نشانوں اور تائیدات کے ذریعہ سے بعض اپنے مقبولین کی اس قدر محبت لوگوں کے دِلوں میں یک دفعہ ڈال دیتا ہے کہ یا تو اُن کو جھوٹا اور کافر اور مفتری کہا جاتاہے اور طرح طرح کی نکتہ چینیاں کی جاتی ہیں اور ہر ایک بد عادت اور عیب اُن کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور یا ایسا ظہور میں آتا ہے کہ ان کی تائید میں کوئی ایسا پاک نشان ظاہر ہو جاتا ہے جس کی