میلان طبعاً اِس طرف ہوگیا ہے اور سلاطین کی اِس قسم کی تفتیش بھی لوازم سلطنت میں سے شمار کی گئی ہے اِس لئے مناسب نہیں ہے کہ ہماری یہ اعلیٰ درجہ کی گورنمنٹ دوسروں سے پیچھے رہے اور تمہید اِس کارروائی کی اِس طرح پر ہوسکتی ہے کہ ہماری عالی ہمت گورنمنٹ ایک مذہبی جلسہ کا اعلان کرکے اِس زیر تجویز جلسہ کی ایسی تاریخ مقرر کرے جو دو سال سے زیادہ نہ ہو اور تمام قوموں کے سرگروہ علماء اور فقراء اور ملہموں کو اِس غرض سے بلایا جائے کہ وہ جلسہ کی تاریخ پر حاضر ہوکر اپنے مذہب کی سچائی کے دو۲ ثبوت دیں ۔ (۱) اوّل ایسی تعلیم پیش کریں جو دوسری تعلیموں سے اعلیٰ ہو جو انسانی درخت کی تمام شاخوں کی آبپاشی کرؔ سکتی ہو۔ (۲) دُوسرے یہ ثبوت دیں کہ اُن کے مذہب میں رُوحانیت اور طاقت بالا ویسی ہی موجود ہے جیسا کہ ابتدا میں دعویٰ کیا گیا تھا اور وہ اعلان جو جلسہ سے پہلے شائع کیاجائے اُس میں بتصریح یہ ہدایت ہو کہ قوموں کے سرگروہ اِن دو ثبوتوں کے لئے تیار ہوکر جلسہ کے میدان میں قدم رکھیں اور تعلیم کی خوبیاں بیان کرنے کے بعد ایسی اعلیٰ پیشگوئیاں پیش کریں جو محض خدا کے علم سے مخصوص ہوں اور نیز ایک سال کے اندر پوری بھی ہوجائیں۔ غرض ایسے نشان ہوں جن سے مذہب کی روحانیت ثابت ہو اور پھر ایک سال تک انتظار کرکے غالب مغلوب کے حالات شائع کر دیئے جائیں۔ میرے خیال میں ہے کہ اگرہماری دانا گورنمنٹ اِس طریق پر کاربند ہو اور آزماوے کہ کس مذہب اور کس شخص میں رُوحانیت اورخدا کی طاقت پائی جاتی ہے تو یہ گورنمنٹ دُنیا کی تمام قوموں پر احسان کرے گی۔ اور اِس طرح سے ایک سچے مذہب کو اُس کے تمام روحانی زندگی کے ساتھ دنیا پر پیش کرکے تمام دنیا کو راہ راست پر لے آئے گی۔ کیونکہ وہ تمام شور وغوغا جو کسی ایسے مذہب کے لئے کیاجاتا ہے جس کے ساتھ فوق العادت زندہ نشان نہیں اور محض روایات پر مدار ہے وہ سب ہیچ ہے