موت کی ہی سزا ہو کیونکہ اِس صورت میں فساد کی تمام بنیاد میری طرف سے ہوگی۔ اور مفسد کو سزا دینا قرین انصاف ہے اور خدا پر جھوٹ بولنے سے کوئی گناہ بدتر نہیں۔ لیکن اگر خدا تعالیٰ نے ایک سال کی میعاد کے اندر میری مدد کی اور زمین کے رہنے والوں میں سے کوئی میرا مقابلہ نہ کرسکا تو پھر میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ محسنہ میرے مخالفوں کو نرمی سے ہدایت کرے کہ اِس نظارہ قدرت کے بعد شرم اور حیا سے کام لیں۔ اور تمام مردی اور بہادری سچائی کے قبول کرنے میں ہے۔
اِس قدر عرض کردینا پھر دوبارہ ضروری ہے کہ نشان اِس قسم کا ہوگا کہ جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہو۔ اور اس میں نکتہ چینی کی ایک ذرہ گنجائش نہ ہو کہ ممکن ہے کہ اس شخص نے ناجائز اسباب سے کام لیا ہو بلکہ جس طرح آفتاب اور ماہتاب کے طلوع اور غروب میں یہ ظن نہیں ہوسکتا کہ کسی انسان نے پیش از وقت اپنی حکمت عملی سے اُن کو چڑھایا ہے یا غروب کردیا ہے اِسی طرح اس نشان میں بھی ایسا ظن کرنا محال ہو اِس قسم کا فیصلہ صدہا نیک نتیجے پیدا کرے گا۔ اور ممکن ہے کہ اس سے تمام قومیں ایک ہو جائیں اوربے جانز اعیں اور جھگڑے اور قوموں کا تفرقہ اور حد سے زیادہ عناد جو قانون سڈیشن کے منشاء کے بھی برخلاف ہے یہ تمام پھوٹ صفحہ برٹش انڈیا سے نابود ہو جائے اور اس میں شک نہیں کہ یہ پاک کارروائی گورنمنٹ کی ہمیشہ کے لئے اِ س ملک میں یادگار رہے گی اور یہ کام گورنمنٹ کے لئے بہت مقدم اور ضروری ہے اور انشاء اللہ اِس سے نیک نتیجے پیدا ہوں گے چونکہ آجکل یورپ کی بعض گورنمنٹیں اِس بات کی طرف بھی ماءِل ہیں کہ مختلف مذاہب کی خوبیاں معلوم کی جائیں کہ ان سب میں سے خوبیوں میں بڑھا ہوا کونسا مذہب ہے اور اِس غرض سے یورپ کے بعض ملکوں میں جلسے کئے جاتے ہیں جیسا کہ اِن دِنوں میں اٹلی میں ایسا ہی جلسہ درپیش ہے اور پھر پیرس میں بھی ہوگا۔ سو جبکہ یورپ کے سلاطین کا