کیونکہ کوئی مذہب بغیر نشان کے انسان کو خدا سے نزدیک نہیں کرسکتا اور نہ گناہ سے نفرت دلاسکتا ہے۔ مذہب مذہب پکارنے میں ہر ایک کی بلند آواز ہے۔ لیکن کبھی ممکن نہیں کہ فی الحقیقت پاک زندگی اور پاک دلی اور خدا ترسی میسّر آسکے جب تک کہ انسان مذہب کے آئینہ میں کوئی فوق العادۃ نظارہ مشاہدہ نہ کرے۔ نئی زندگی ہرگز حاصل نہیں ہوسکتی جب تک ایک نیا یقین پیدا نہ ہو اور کبھی نیا یقین پیدا نہیں ہوسکتا جب تک موسیٰ اور مسیح اور ابراہیم اور یعقوب اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نئے معجزات نہ دکھائے جائیں۔ نئی زندگی اُنہی کو ملتی ہے جن کا خدا نیا ہو یقین نیا ہو نشان نئے ہوں اور دوسرے تمام لوگ قصّوں کہانیوں کے جال میں گرفتار ہیں دل غافل ہیں اور زبانوں پر خدا کا نام ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ زمین کے شور و غوغا تمام قصّے اور کہانیاں ہیں اور ہرایک شخص جو اس وقت کئی سو برس کے بعد اپنے کسی پیغمبر یا اوتار کے ہزارہا معجزات سناتا ہے وہ خود اپنے دِل میں جانتا ہے کہ وہ ایک قصّہ بیان کر رہا ہے جس کو نہ اُس نے اور نہ اُس کے باپ نے دیکھا ہے اور نہ اُس کے دادے کو اس کی خبر ہے۔ وہ خود نہیں سمجھ سکتا کہ کہاں تک اس کا یہ بیان صحیح او ر درست ہے کیونکہ یہ دنیا کے لوگوں کی عادت ہے کہ ایک تنکے کا پہاڑ بنا دیا کرتے ہیں۔ اس لئے یہ تمام قصے جو معجزات کے رنگ میں پیش کئے جاتے ہیں ان کا پیش کرنے والا خواہ کوئی مسلمان ہو یا عیسائی ہو جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا جانتا ہے یا کوئی ہندو ہو جو اپنے اوتاروں کے کرشمے کتابیں اور پستک کھول کر سناتا ہے یہ سب کچھ ہیچ اور لاشے ہیں اور ایک کوڑی ان کی قیمت نہیں ہوسکتی جب تک کہ کوئی زندہ نمونہ اُن کے ساتھ نہ ہو اور سچا مذہب وہی ہے جس کے ساتھ زندہ نمونہ ہے۔ کیا کوئی دِل اور کوئی کانشنس اِس بات کو قبول کرسکتا ہے کہ ایک مذہب تو سچا ہے مگر اس کی سچائی کی چمکیں اور سچائی کے