تمام مخلوق کی خیر خواہی کے لئے ایک تجویز سوچی ہے جو ہماری گورنمنٹ کی امن پسند پالیسی کے مناسب حال ہے جس کی تعمیل اس گورنمنٹ عالیہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ یہ محسن گورنمنٹ جس کے احسانات سب سے زیادہ مسلمانوں پر ہیں ایک یہ احسان کرے کہ اِس ہر روزہ تکفیر اور تکذیب اور قتل کے فتووں اور منصوبوں کے روکنے کے لئے خود درمیان میں ہوکر یہ ہدایت فرماوے کہ اِس تنازع کا فیصلہ اِس طرح پر ہوکہ مدعی یعنی یہ عاجز جس کو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ہے اور جس کو یہ دعویٰ ہے کہ جس طرح نبیوں سے خدا تعالیٰ ہم کلام ہوتا تھا اُسی طرح مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے اور غیب کے بھید مجھ پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور آسمانی نشان دکھلائے جاتے ہیں۔ یہ مدعی یعنی یہ عاجز گورنمنٹ کے حکم سے ایک سال کے اندر ایک ایسا آسمانی نشان دکھلاوے ایسا نشان جس کا مقابلہ کوئی قوم اور کوئی فرقہ جو زمین پر رہتے ہیں نہ کر سکے اور مسلمانوں کی قوموں یا دوسری قوموں میں سے کوئی ایسا ملہم اور خواب بین اور معجزہ نما پیدا نہ ہوسکے جو اُس نشان کی ایک سال کے اندر نظیر پیش کرے۔ اور ؔ ایسا ہی ان تمام مسلمانوں بلکہ ہر ایک قوم کے پیشواؤں کو جو ملہم اور خدا کے مقرب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ہدایت اور فہمایش ہوکہ اگر وہ اپنے تئیں سچ پر اور خدا کے مقبول سمجھتے ہیں اور ان میں کوئی ایسا پاک دل ہے جس کو خدا نے ہم کلام ہونے کا شرف بخشا ہے اور الٰہی طاقت کے نمونے اس کو دیئے گئے ہیں تو وہ بھی ایک سال تک کوئی نشان دکھلاویں۔ پھر بعد اس کے اگر ایک سال تک اِس عاجز نے ایسا کوئی نشان نہ دکھلایا جو انسانی طاقتوں سے بالا تر اورانسانی ہاتھ کی ملونی سے بھی بلند تر ہو یا یہ کہ نشان تو دکھلایا مگر اس قسم کے نشان اور مسلمانوں یا اور قوموں سے بھی ظہور میں آگئے تو یہ سمجھا جائے کہ میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں اور اِس صورت میں مجھ کو کوئی سخت سزا دی جائے گو