یا اِس سے بھی زیادہ ایسے لوگ پیدا ہوگئے ہیں جو میری ان پاک تعلیموں کے دل سے پابند ہیں*اور یہ نیا فرقہ مگر گورنمنٹ کے لئے نہایت مبارک فرقہ برٹش انڈیا میں زور سے ترقی کر رہا ہے۔ اگر مسلمان ان تعلیموں کے پابند ہو جائیں تو میں قسم کھاکر کہہ سکتا ہوں کہ وہ فرشتے بن جائیں ۔ اوراگر وہ اس گورنمنٹ کی سب قوموں سے بڑھ کر خیر خواہ ہو جائیں تو تمام قوموں سے زیادہ خوش قسمت ہو جائیں۔ اگر وہ مجھے قبول کرلیں اور مخالفت نہ کریں تو یہ سب کچھ انہیں حاصل ہوگا اور ایک نیکی اور پاکیزگی کی روح اُن میں پیدا ہو جائے گی۔ اور جس طرح ایک انسان خوجہ ہوکر گندے شہوات کے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے اسی طرح میری تعلیم سے ان میں تبدیلی پیدا ہوگی۔ مگر میں نہیں کہتا کہ گورنمنٹ عالیہ جبراً ان کو میری جماعت میں داخل کرے اورنہ میں اِس وقت یہ استغاثہ کرتا ہوں کہ کیوں وہ ہر وقت میرے قتل کے درپے ہیں اور کیوں میرے قتل کے لئے جھوٹے فتوے شائع کر رہے ہیں اورمیں جانتا ہوں کہ یہ بد ارادے اُن کے عبث ہیں کیونکہ کوئی چیز زمین پر نہیں ہوسکتی جب تک آسمان پر نہ ہولے۔ اور میں اُن کی بدی کے عوض میں اُن کے حق میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اُن کی آنکھیں کھولے اور وہ خدا اور مخلوق کے حقوق کے شناسا ہو جائیں۔ مگر چونکہ ان لوگوں کی عداوت حد سے بڑھ گئی ہے اس لئے میں نے ان کی اصلاح کے لئے اور ان کی بھلائی کے لئے بلکہ
* میں نے اپنی کسی کتاب میں لکھا تھا کہ میری جماعت تین سو۳۰۰ آدمی ہے لیکن اب وہ شمار
بہت بڑھ گیا ہے کیونکہ زور سے ترقی ہو رہی ہے۔ اب میں یقین رکھتا ہوں کہ میری جماعت کے لوگ دس ہزار سے بھی کچھ زیادہ ہوں گے اور میری فراست یہ پیشگوئی کرتی ہے کہ تین سال تک ایک لاکھ تک میری اِس جماعت کا عدد پہنچ جاوے گا۔ منہ