کے لئے اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں حاضرہوا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس مُلک کے مولوی مسلمان اور ان کی جماعتوں کے لوگ حد سے زیادہ مجھے ستاتے اور دُکھ دیتے ہیں۔ میرے قتل کے لئے ان لوگوں نے فتوے دیئے ہیں۔ مجھے کافر اور بے ایمان ٹھہرایا ہے اور بعض ان میں سے حیا اور شرم کو ترک کرکے اِس قسم کے اشتہار میرے مقابل پر شائع کرتے ہیں کہ یہ شخص اِس وجہ سے بھی کافر ہے کہ اس نے انگریزی سلطنت کو سلطنت روم پر ترجیح دی ہے اور ہمیشہ انگریزی سلطنت کی تعریف کرتا ہے۔ اور ایک باعث یہ بھی ہے کہ یہ لوگ مجھے اِس وجہ سے بھی کافر ٹھہراتے ہیں کہ میں نے خدا تعالیٰ کے سچے الہام سے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اِس خونی مہدی کے آنے سے انکار کیا ہے جس کے یہ لوگ منتظر ہیں۔ بے شک میں اقرار کرتاہوں کہ میں نے انؔ لوگوں کا بڑا نقصان کیا ہے کہ میں نے ایسے خونی مہدی کا آنا سراسر جھوٹ ثابت کردیا ہے جس کی نسبت ان لوگوں کا خیال تھا کہ وہ آکر بے شمار روپیہ اُن کو دے گا مگر میں معذور ہوں۔ قرآن اور حدیث سے یہ بات بپایہ ثبوت نہیں پہنچتی کہ دُنیا میں کوئی ایسا مہدی آئے گا جو زمین کو خون میں غرق کردے گا۔ پس میں نے ان لوگوں کا بجز اس کے کوئی گناہ نہیں کیا کہ اس خیالی لوٹ مار کے روپیہ سے میں نے ان کو محروم کردیا ہے۔ میں خدا سے پاک الہام پاکر یہ چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے اخلاق اچھے ہو جائیں اور وحشیانہ عادتیں دور ہو جائیں اور نفسانی جذبات سے اُن کے سینے دھوئے جائیں او ر ان میں آہستگی اور سنجیدگی اور حلم اور میانہ روی اور انصاف پسندی پیدا ہو جائے اور یہ اپنی اس گورنمنٹ کی ایسی اطاعت کریں کہ دوسروں کے لئے نمونہ بن جائیں۔ اور یہ ایسے ہو جائیں کہ کوئی بھی فساد کی رگ ان میں باقی نہ رہے۔ چنانچہ کسی قدر یہ مقصود مجھے حاصل بھی ہوگیا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ دس ہزار