اور خاتم الخلفاء جس کو دوسرے لفظوں میں مسیح موعود کہنا چاہیئے اِسی طور سے پیدا ہوناؔ ضروری تھا کہ وہ تَواَم کی طرح تولد پاوے۔ اس طرح سے کہ پہلے اس سے لڑکی نکلے اور بعد اس کے لڑکا خارج ہو۔ تا وہ خاتم الولد ہو۔ سو واضح ہو کہ شیخ موصوف کی یہ پیشگوئی غالباً اُس کا کشف ہوگا مگر قرآن شریف پر نظر ڈال کر اس کی تصدیق پائی جاتی ہے۔ اور چونکہ شیخ کی یہ کتاب آخر الکتب ہے جس میں شیخ نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ وہ خاتم الخلفاء عیسیٰ ہے جو آسمان سے نازل ہوگا بلکہ اُس کو متولّد ہونے والا مانا ہے مگر توام کے طور پر اور شیخ کی تفسیرقرآن سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا قائل نہیں ہے کہ آسمان سے عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوگا اِس لئے ثابت ہوتا ہے کہ شیخ نے اگر کسی پہلی کتاب میں عقیدہ نزول عیسیٰ بیان کیا ہے تو شیخ نے آخرکار اُس سے رجوع کرلیا ہے اور صوفیوں کی تالیفات میں ایسا بہت ہوتا ہے چنانچہ براہین احمدیہ میں قبل علم قطعی جو خدا سے منکشف ہوا اپنے خیال سے یہی لکھا گیا تھا کہ خود عیسیٰ دوبارہ آئے گا۔ مگر خدا نے اپنی متواتر وحی سے اِس عقیدہ کو فاسد قرار دیا اور مجھے کہا کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔ اور یاد رہے کہ اگر شیخ اس پیشگوئی میں بجائے شیث کے مسیح موعود کو آدم سے مشابہت دیتا تو بہتر تھا کیونکہ قرآن اور توریت سے ثابت ہے کہ آدم بطور توام پیدا ہوا تھا اور براہین احمدیہ میں آج سے بائیس ۲۲ برس پہلے میری نسبت خدا تعالیٰ کی یہ وحی شائع ہوچکی ہے کہ اردت ان استخلف فخلقت اٰدم اِس میں بھی اشارہ تھاکہ اوّل میں بھی توأم تھا اور آخر میں بھی توأم۔ اورمیرا توأم پیدا ہونا اور اوّل لڑکی اور بعد میں اُسی حمل سے میرا پیدا ہونا تمام گاؤں کے بزرگ سال لوگوں کومعلوم ہے اور جنانے والی دائی کی