امثال بیان کرکے ہمارے ذہن نشین کردیا ہے کہ وضع عالم دوری ہے اور نیکوں اور بدوں کی جماعتیں ہمیشہ بروزی طور پر دُنیا میں آتی رہتی ہیں وہ یہودی جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں موجود تھے۔ خدا نے دُعا 3 ۱ سکھلاکر اشارہ فرمادیا کہ وہ بروزی طور پر اس اُمّت میں بھی آنے والے ہیں تا بروزی طورپر وہ بھی اس مسیح موعود کو ایذا دیں جو اِس اُمّت میں بروزی طور پر آنے والا ہے بلکہ یہ فرمایا کہ تم نمازوں میں سورۃ فاتحہ کو ضروری طور پر پڑھو یہ سکھلاتا ہے کہ مسیح موعود کا ضروری طور پر آنا مقدّر ہے۔ ایسا ہی قرآن شریف میں اِس اُمت کے اشرار کو یہود سے نسبت دی گئی اور صرف اسی قدر نہیں بلکہ ایسے شخص کو جو مریمی صفت سے محض خدا کے نفخ سے عیسوی صفت حاصل کرنے والا تھا اُس کا نام سورۃ تحریم میں ابن مریم رکھ دیا ہے کیونکہ فرمایا ہے کہ جبکہ مثالی مریم نے بھی تقویٰ اختیار کیا۔ تو ہم نے اپنی طرف سے رُوح پھونک دی اِس میں اشارہ تھا کہ مسیح ابن مریم میں کلمۃ اللہ ہونے کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ آخری مسیح بھی کلمۃ اللہ ہے اور رُوح اللہ بھی بلکہ ان دونوں صفات میں وہ پہلے سے زیادہ کامل ہے جیسا کہ سورۃ تحریم اور سورۃ فاتحہ اور سورۃ النُّور اور آیت 3۲سے سمجھا جاتا ہے۔
پھر ماسوا اِس کے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ بھی فرمایا۔ 3 3۳۔ اِس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ایک انسان خدا کی اوّلیت کا مظہر تھا او ر ایک انسان خدا کی آخریّت کامظہر ہوگا۔ او ر لازم تھا کہ دونوں انسان ایک صفت میں برعایت خصوصیات متحد ہوں پس جبکہ آدم نَر اور مادہ پیدا کیا گیا اور ایسا ہی شیث کو بھی تو چاہیئے تھا کہ آخری انسان بھی نَر اور مادہ کی شکل پر پیدا ہو۔ اِس لئے قرآن کے حکم کے رُو سے وہ وعدہ کا خلیفہ