صفی اللہ کے لئے کئی بروزات تھے جن میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی تھے لیکن یہ آخری بروز اکمل اور اتم ہے۔ اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گذرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہوسکتی ہے اور تمام اہلِ علم اورمعرفت اس فضیلت کےؔ قائل ہیں اور اس سے کوئی محذور لازم نہیں آتا اور نہ میں اکیلا اس کا قائل ہوں۔ جس قدر اکابر اور عارف مجھ سے پہلے گذرے ہیں وہ تمام آخری آدم کو ولایت عامہ کا خاتم سمجھتے ہیں اور حقیقت آدمیہ کی بروزات کا تمام دائرہ اس پر ختم کرتے ہیں اور اپنے کشوف صحیحہ کے رُو سے اسی کا نام آخری آدم رکھتے ہیں اور اسی کا نام مہدی معہود اور اسی کا نام مسیح موعود رکھتے ہیں۔ ہاں جن لوگوں نے بروز کے مسئلہ کو اپنی جہالت سے نظرانداز کردیا ہے اور خدا کی اس سنت کو جو اُس کی تمام مخلوق میں جاری و ساری ہے بھول گئے ہیں وہ لوگ ایک سطحی خیال کو ہاتھ میں لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جن کی رُوح حدیث معراج کی شہادت سے گذشتہ روحوں میں داخل ثابت ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ آسمان سے اُتارتے اور دُنیا میں لاتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ اس خیال سے مسئلہ بروز کا انکار لازم آتا ہے اور وہ انکار ایسا خطرناک ہے کہ اس سے اسلام ہی ہاتھ سے جاتاہے۔ تمام رباّنی کتابیں مسئلہ بروز کی قائل ہیں خود حضرت مسیح نے بھی یہی تعلیم سکھلائی اوراحادیث نبویہ میں بھی اِس کا بہت ذِکر ہے اس لئے اس کا انکار سخت جہالت ہے اور اس سے خطرہ سَلبِ ایمان ہے اور اسی غلطی سے درمیانی زمانہ کے لوگوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے فیج اعوج کا نہایت برا لقب پایا اور اس اجماع کو بھول گئے جو حضرت ابوبکر کی