زبان سے مامحمّد الا رسول پر ہوا تھا۔ غرض یہ پیشگوئی ایک دور دراز زمانہ سے چلی آتی ہے کہ آخری کامل انسان آدم کے قدم پر ہوگا تا دائرہ حقیقت آدمیہ پورا ہو جائے۔ اور اس پیشگوئی کو شیخ محی الدین ابن العربی نے فصوص الحکم میں فصّ شیث میں لکھا ہے اور دراصل یہ پیشگوئی فصّ آدم میں رکھنے کے لائق تھی مگر انہوں نے شیث کو الولد سرّلابیہ کامصداق سمجھ کر اسی کیفصّ میں اس کو لکھ دیا ہے۔ہم مناسب دیکھتے ہیں کہ اس جگہ شیخ کی اصل عبارت نقل کردیں اور وہ یہ ہے ’’ وعلٰی قدم شیث یکون آخر مولود یولد من ھذا النوّع الانسانی وھوحامل اسرارہٖ۔ ولیس بعدہ ولد فی ھٰذا النّوع فھوخاتم الاولاد۔ وتولد معہٗ اختٌ لہ فتخرج قبلہ ویخرج بعدھا یکون رأسہٗ عند رجلیھا۔ ویکون مولدہ بالصّین ولغتہ لغت بلدہ۔ ویسری العُقم فی الرجال والنساء فیکثرالنکاح من غیر ولادۃ۔ ویدعوھم الی اللّٰہ فلا یجاب‘‘ یعنی کامل انسانوں میں سے آخری کامل ایک لڑکا ہوگاجو اصل مولد اس کا چین ہوگا۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ قوم مغل اور ترک میں سے ہوگا اور ضروری ہے کہ عجم میں سے ہوگا نہ عرب میں سے اور اس کو وہ علوم اور اسرار دیئے جائیں گے جو شیث کو دیئے گئے تھے اور اس کے بعد کوئی اور ولد نہ ہوگا اور وہ خاتم الاولاد ہوگا۔ یعنی اس کی وفات کے بعد کوئی کامل بچہ پیدا نہیں ہوگا۔ اور اس فقرہ کے یہ بھی معنے ہیں کہ وہ اپنے باپ کا آخری فرزند ہوگا اور اُس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوگی جو اُس سے پہلے نکلے گی اوروہ اُس کے بعد نکلے گا۔ اُس کا سراُس دُختر کے پیروں سے ملا ہوا ہوگا۔ یعنی دُختر معمولی طریق سے پیدا ہوگی کہ پہلے سر نکلے گا اور پھر پیر اور اُس کے