ہدایت پائے گا جس طرح آدم نے خدا سے ہدایت پائی اور وہ اُن علوم اور اسرار کا حامل ہوگا جن کاآدم خدا سے حامل ہوا اور ظاہری مناسبت آدم سے اس کی یہ ہوگی کہ وہ بھی زوج کی صورت پیدا ہوگا یعنی مذکر اور مؤنث دونوں پیدا ہوں گے جس طرح آدم کی پیدایش تھی کہ اُن کے ساتھ ایک مؤنث بھی پیدا ہوئی تھی یعنی حضرت حوّا علیہا السلام۔ اور خدا نے جیسا کہ ابتدا میں جوڑا پیدا کیا مجھے بھی اِس لئے جوڑا پیدا کیا کہ تا اوّلیت کو آخریّت کے ساتھ مناسبت تام پیدا ہو جائے یعنی چونکہ ہر ایک وجود سلسلہ بروزات میں دور کرتا رہتا ہے او ر آخری بروز اُس کا بہ نسبت درمیانی بروزات کے اتم اور اکمل ہوتا ہے اِس لئے حکمت الہٰیہ نے تقاضا کیا کہ وہ شخص کہ جو آدم صفی اللہ کا آخری بروز ہے وہ اس کے واقعات سے اشد مناسبت پیدا کرے۔ سو آدم کاذاتی واقعہ یہ ہے کہ خدا نے آدم کے ساتھ حوّا کو بھی پیدا کیا سو یہی واقعہ بروز اتم کے مقام میں آخری آدم کو پیش آیا کہ اس کے ساتھ بھی ایک لڑکی پیدا کی گئی اور اُسی آخری آدم کا نام عیسیٰ بھی رکھا گیا تا اِس بات کی طرف اشارہ ہو کہ حضرت عیسیٰ کو بھی آدم صفی اللہ کے ساتھ ایک مشابہت تھی لیکن آخری آدم جو بروزی طور پر عیسیٰ بھی ہے آدم صفی اللہ سے اشد مشابہت رکھتا ہے کیونکہ آدم صفی اللہ کے لئے جس قدر بروزات کا دور ممکن تھا وہ تمام مراتب بروزی وجود کے طے کرکے آخری آدم پیدا ہوا ہے اور اس میں اتم اوراکمل بروزی حالت دکھائی گئی ہے جیسا کہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۰۵ میں میری نسبت ایک یہ خدا کاکلام اور الہام ہے کہ خلق آدم فاکرمہ یعنی خدا نے آخری آدم کو پیدا کرکے پہلے آدموں پر ایک وجہ کی اس کو فضیلت بخشی۔ اس الہام اور کلام الٰہی کے یہی معنے ہیں کہ گو آدم