امید ہوسکتی۔ لوگؔ اور بنی اسرائیل کے گذشتہ نبی جن کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے سچ مچ واقعہ صلیب کے وقت زندہ ہو گئے تھے اور زندہ ہوکر شہر میں آگئے تھے اور حقیقت میں مسیح کی سچائی اور خدائی ثابت کرنے کے لئے یہ معجزہ دکھلایا گیا تھا جو صدہا نبیوں اور لاکھوں را ستبازوں کو ایک دم میں زندہ کردیا گیا تو اس صورت میں یہودیوں کویہ ایک عمدہ موقعہ ملا تھا کہ وہ زندہ شدہ نبیوں اور دوسرے راستبازوں اور اپنے فوت شدہ باپ دادوں سے مسیح کی نسبت دریافت کرتے کہ کیا یہ شخص جو خدائی کا دعویٰ کرتا ہے درحقیقت خدا ہے یا کہ اپنے اس دعویٰ میں جھوٹا ہے اور قرین قیاس ہے کہ اس موقعہ کو انہوں نے ہاتھ سے نہ دیا ہوگا اور ضرور دریافت کیا ہوگا کہ یہ شخص کیسا ہے کیونکہ یہودی ان باتوں کے بہت حریص تھے کہ اگر مردے دنیا میں دوبارہ آجائیں تو ان سے دریافت کریں تو پھر جس حالت میں لاکھوں مردے زندہ ہوکر شہر میں آگئے اور ہرایک محلہ میں ہزاروں مردے چلے گئے تو ایسے موقعہ کو یہودی کیونکر چھوڑ سکتے تھے ضرور انہوں نے نہ ایک نہ دو سے بلکہ ہزاروں سے پوچھا ہوگا اور جب یہ مردے اپنے اپنے گھروں میں داخل ہوئے ہوں گے۔ تو ان لاکھوں انسانوں کے دنیا میں دوبارہ آنے سے گھر گھر میں شور پڑ گیا ہوگا اور ہر ایک گھر میں یہی شغل اور یہی ذکر اور یہی تذکرہ شروع ہو گیا ہوگا کہ مردوں سے پوچھتے ہوں گے کہ کیا آپ لوگ اس شخص کو جو یسوع مسیح کہلاتا ہے حقیقت میں خدا جانتے ہیں۔ مگر چونکہ مُردوں کی اس گواہی کے بعد جیسا کہ امید تھی یہودی حضرت مسیح پر ایمان نہیں لائے اور نہ کچھ نرم دل ہوئے بلکہ اور بھی سخت دل ہوگئے تو غالباً معلوم ہوتا ہے کہ مردوں نے کوئی اچھی گواہی نہیں دی۔ بلکہ بلا توقف یہ جواب دیا ہوگا کہ یہ شخص اپنے اس دعویٰ خدائی میں بالکل جھوٹا ہے اور خدا پر بہتان باندھتا ہے۔ تبھی تو لاکھوں انسان بلکہ پیغمبروں اور رسولوں کے زندہ ہونے کے بعد بھی یہودی اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے اور حضرت مسیح کو مار کر پھر دوسروں کے قتل کی طرف متوجہ ہوئے۔ بھلا یہ بات سمجھ آسکتی ہے کہ لاکھوں را ستباز کہ جو حضرت آدم سے لے کر حضرت یحیٰی تک اس زمین پاک کی قبروں میں سوئے ہوئے تھے وہ سب کے سب