زندہ ؔ ہوجائیں اور پھر وعظ کرنے کے لئے شہر میں آئیں اور ہر ایک کھڑا ہوکر ہزارہا انسانوں کے سامنے یہ گواہی دے کہ درحقیقت یسوع مسیح خدا کا بیٹا بلکہ خود خدا ہے اسی کی پوجا کیا کرو اور پہلے خیالات کو چھوڑو ورنہ تمہارے لئے جہنم ہے جس کو خود ہم دیکھ کر آئے ہیں۔ اور پھر باوجود اس اعلیٰ درجہ کی گواہی اور شہادت رویت کے جو لاکھوں را ستباز مردوں کے منہ سے نکلی یہودی اپنے انکار سے باز نہ آئیں۔ ہمارا کانشنس تو اس بات کو نہیں مانتا۔ پس اگر فی الحقیقت لاکھوں را ستباز فوت شدہ پیغمبر اور رسول وغیرہ زندہ ہوکر گواہی کے لئے شہر میں آئے تھے تو کچھ شک نہیں کہ انہوں نے کچھ الٹی ہی گواہی دی ہوگی اور ہرگز حضرت مسیح کی خدائی کو تصدیق نہیں کیا ہوگا تبھی تو یہودی لوگ مردوں کی گواہیوں کو سن کر اپنے کفر پر پکے ہوگئے اور حضرت مسیح تو ان سے خدائی منوانا چاہتے تھے مگر وہ تو اس گواہی کے بعد نبوت سے بھی منکر ہو بیٹھے۔
غرض ایسے عقیدے نہایت مضر اور بد اثر ڈالنے والے ہیں کہ ایسا یقین کیا جائے کہ یہ لاکھوں مردے یا اس سے پہلے کوئی مردہ حضرت مسیح نے زندہ کیا تھا کیونکہ ان مردوں کے زندہ ہونے کے بعد کوئی نیک نتیجہ پیدا نہیں ہوا۔ یہ انسان کی فطرت میں ہے کہ اگر مثلاً کوئی شخص کسی دور دراز ملک میں جاتا ہے اور چند برس کے بعد اپنے شہر میں واپس آتا ہے تو طبعاً اس کے دل میں یہ جوش ہوتا ہے کہ اس ملک کے عجائب غرائب لوگوں کے پاس بیان کرے اور اس ولایت کے عجیب در عجیب واقعات سے ان لوگوں کو اطلاع دے نہ یہ کہ اتنی مدت کی جدائی کے بعد جب اپنے لوگوں کو ملے تو زبان بند رکھے اور گونگوں کی طرح بیٹھا رہے بلکہ ایسے موقعہ میں دوسرے لوگوں میں بھی فطرتاً یہ جوش پیدا ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے پاس دوڑے آتے ہیں اور اُس ملک کے حالات اس سے پوچھتے ہیں اور اگر ایسا اتفاق ہو کہ ان لوگوں کے ملک میں کوئی غریب شکستہ حال وارد ہو جس کی ظاہری حیثیت غریبانہ ہو اور وہ دعویٰ کرتا ہو کہ میں اُس ملک کا بادشاہ ہوں جس کے پایہ تخت کا