کےؔ اندازہ تک نہیں پہنچی یعنی ہماری جماعت۔ اور یہ پیشگوئی اس زمانہ میں نہایت صفائی سے پوری ہوئی کیونکہ وہ سچائی جو حضرت مسیح کی نسبت اب پوری ہوئی ہے وہ بلاشبہ ان تمام قوموں کے ماتم کا موجب ہے کیونکہ اس سے سب کی غلطی ظاہر ہوتی ہے اور سب کی پردہ دری ظہور میں آتی ہے۔ عیسائیوں کے خدا بنانے کا شور و غوغا حسرت کی آہوں سے بدل جاتا ہے۔ مسلمانوں کا دن رات کا ضد کرنا کہ مسیح آسمان پر زندہ گیا ۔آسمان پر زندہ گیا رونے اور ماتم کے رنگ میں آجاتا ہے اور یہودیوں کا تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ اور اس جگہ یہ بھی بیان کردینے کے لائق ہے کہ آیت مذکورہ بالا میں جو لکھا ہے کہ اس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی۔ اس جگہ زمین سے مراد بلادِ شام کی زمین ہے جس سے یہ تینوں قومیں تعلق رکھتی ہیں۔ یہودی اس لئے کہ وہی ان کا مبدء اور منبع ہے اور اسی جگہ اُن کا معبد ہے۔ عیسائی اس لئے کہ حضرت مسیح اسی جگہ ہوئے ہیں اور عیسائی مذہب کی پہلی قوم اسی ملک میں پیدا ہوئی ہے۔ مسلمان اس لئے کہ وہ اس زمین کے قیامت تک وارث ہیں اور اگر زمین کے لفظ کے معنی ہر یک زمین لی جائے تب بھی کچھ حرج نہیں کیونکہ حقیقت کھلنے پر ہر یک مکذّب نادم ہوگا۔ اور منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کو ملی ہیں انجیل متی کی وہ عبارت ہے جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔ ’’اور قبریں کھل گئیں اور بہت لاشیں پاک لوگوں کی جو آرام میں تھیں اٹھیں اور اس کے اٹھنے کے بعد (یعنی مسیح کے اٹھنے کے بعد) قبروں میں سے نکل کر اور مقدس شہر میں جاکر بہتوں کو نظر آئیں‘‘۔ دیکھو انجیل متی باب۲۷ آیت۵۲۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ قصہ جو انجیل میں بیان کیا گیا ہے کہ مسیح کے اٹھنے کے بعد پاک لوگ قبروں میں سے باہر نکل آئے اور زندہ ہوکر بہتوں کو نظر آئے یہ کسی تاریخی واقعہ کا بیان نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر گویا اسی دنیا میں قیامت نمودار ہوجاتی اور وہ امر جو صدق اور ایمان دیکھنے کے لئے دنیا پر مخفی رکھا گیا تھا وہ سب پر کھل جاتا اور ایمان ایمان نہ رہتا اور ہر یک مومن اور کافر کی نظر میں آنے والے عالم کی حقیقت ایک بدیہی چیز ہو جاتی جیسا کہ چاند اور سورج اور دن اور رات کا وجود بدیہی ہے تب ایمان ایسی قیمتی اور قابل قدر چیز نہ ہوتی جس پر اجر پائیں *گے کچھ *’’پائیں گے ‘‘ سہو کتابت ہے ۔درست ’’پانے کی‘‘ ہے بحوالہ روحانی خزائن ۔(ناشر)