راسخ ہونے کے بعد ایک دوسرے درجہ پر صدق پیدا ہوتا ہے جس کو اُنس اور شوق اور رجوع اِلی اللہ سے تعبیر کرسکتے ہیں اور اِس عادت کے راسخ ہونے کے بعد ایک تیسرے درجہ کا صدق پیدا ہوتا ہے جس کو تبدّلِ اعظم اور اِنقطاعِ اَتَم اور محبت ذاتیہ اور فنافی اللہ کے درجہ سے تعبیر کرسکتے ہیں اور اِس عادت کے راسخ ہونے کے بعد رُوحِ حق اِنسان میں حلول کرتی ہے اور تمام پاک سچائیاں اور اعلیٰ درجہ کے معارف و حالات بطریق طبیعت و جبلّت بکمال وجد و شرح صدر اُس شخص کے نفسِ پاک پر وارد ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور عمیق در عمیق معارف قرآنیہ و نکات شرعیہ اُس شخص کے دِل میں جوش مارتے اور زبان پر جاری ہوتے ہیں اور وہ اسرارِ شریعت اور لطائفِ طریقت اُس پر کھلتے ہیں جو اہلِ رسم اور عادت کی عقلیں اُن تک پہنچ نہیں سکتیں کیونکہ یہ شخص مقام نفحاتِ الٰہیہ پر کھڑا ہوتا ہے اور روح القدس اس کے اندر بولتی ہے اور تمام کذب اور دروغ کا حصہ اس کے اندر سے کاٹا جاتا ہے کیونکہ یہ روح سے پاتا اور روح سے بولتا اور روح سے لوگوں پر اثر ڈالتا ہے اور اِس حالت میں اُس کا نام صدیق ہوتا ہے کیونکہ اُس کے اندر سے بکلی کذِب کی تاریکی نکلتی اور اُس کی جگہ سچائی کی روشنی اور پاکیزگی اپنا دخل کرتی ہے اور اِس مرتبہ پر اعلیٰ درجہ کی سچائیوں کا ظہور اور اعلیٰ معارف کا اُس کی زبان پر جاری ہونااُس کے لئے بطور نشان کے ہوتا ہے۔ اُس کی پاک تعلیم جو سچائی کے نور سے خمیر شدہ ہوتی ہے دُنیا کو حیرت میں ڈالتی ہے۔ اُس کے پاک معارف جو سرچشمہ فنافی اللہ اور حقیقت شناسی سے نکلتے ہیں تمام لوگوں کو تعجب میں ڈالتے ہیں اور اِس قسم کاکمال صد یقیّت کے کمال سے موسوم ہے۔