یہ ہیں۔ (۱) اوّل یہ کہ اُمور غیبیہ بعد استجابت یا اور طریق پر اِس کثرت سے اُس پر کھلتے رہیں اور بہت سی پیشگوئیاں ایسی صفائی سے ظہور پذیر ہوجائیں کہ اُس کثرت مقدار اور صفاء کیفیت کے لحاظ سے کوئی شخص اُن کا مقابلہ نہ کرسکے اور اُن کی کمّی اور کیفی کمالات میں احتمال شرکتِ غیر بکلّی معدوم بلکہ محالات میں سے ہو یعنی جس قدر اُس پر اسرارِ غیب ظاہر ہوں اور جس قدر اُس کی دعائیں قبول ہوکر اُن قبولیتوں سے اُس کو اطلاع دی جائے اور جس قدر اُس کی تائید میں آسمان اور زمین اور انفس اور آفاق میں خوارق ظہور پذیر ہوں بکلّی غیر ممکن ہو جو اُن کی نظیر کوئی دکھلاسکے یا اُن کمالات میں مقابلہ پر کھڑا ہوسکے اور اس قدر علم غیوب الٰہیہ اور کشف انوارِ نامتناہیہ اور تائیداتِ سماویہ بطور خارق عادت اور اعجاز اور کرامت اُس کو عطا کی جائے کہ گویا ایک دریا ہے جو چل رہا ہے اور ایک عظیم الشان روشنی ہے جو آسمان سے اترکر زمین پر پھیل رہی ہے اور یہ امور اِس حد تک پہنچ جائیں جو بہ بداہت نظر خارق عادت اور فائق العصر دکھائی دیں اور یہ کمال کمالِ نبوت سے موسوم ہے۔ (۲) اور دوسرا کمال جو بطور نشان کے امام الاولیاء اور سیّد الاصفیاء کے لئے ضروری ہے وہ فہم قرآن اور معارف کی اعلیٰ حقیقت تک وصول ہے۔ یہ بات ضروری طور پر یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ؔ قرآن شریف کی ایک ادنیٰ تعلیم ہے او رایک اوسط اورایک اعلیٰ اور جو اعلیٰ تعلیم ہے وہ اِس قدر انوار معارف اور حقائق کی روشن شعاعوں اور حقیقی حسن اور خوبی سے پُر ہے جو ادنیٰ یا اَوسط استعداد کا اُس تک ہرگز گذر نہیں ہوسکتا بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کے اہلِ صَفوت او ر اَربابِ طہارت فطرت ان سچائیوں کو پاتے ہیں جن کی سرشت سراسر نور ہوکر نور کو اپنی طرف کھینچتی ہے سو اوّل مرتبہ صدق کا جو اُن کو حاصل ہوتا ہے دنیا سے نفرت اور ہرایک لغو امر سے طبعی کراہت ہے۔ اور اِس عادت کے