بذریعہ خط اِس کشف سے اِطلاع دے دی گئی تھی جو اب تک بفضلہ تعالیٰ زندہ موجود ہیں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر اِس تمام بیان کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ اب سوچنا چاہئے کہ غیب کاوسیع علم غیر کو ہرگز دیا نہیں جاتا اور گو ممکن ہے کہ غیر کو بھی جس کے تعلقات خدا تعالیٰ سے محکم نہیں ہیں کبھی سچی خواب آجائے یا سچا کشف ہو جائے لیکن ولایت اورقبولیت کی علامات میں لازمی طور پر یہ شرط ہے کہ اُمور غیبیہ اور پوشیدہ باتیں اِس قدر ظاہرہوں کہ وہ اپنی کثرت میں دنیا کے تمام لوگوں سے بڑھے ہوئے ہوں او راس کثرت سے ہوں کہ کوئی بھی اُن کا مقابلہ نہ کرسکے۔ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جبکہ خدا تعالیٰ اپنے فضل عظیم اور کرم عمیم سے کسی شخص کو اپنی خلعتِ ولایت اور رُتبہ کرامت سے مشرف اور سرفراز فرماتا ہے تو چار چیزوں میں اُس کو جمیع اس کے ابناء جنس اور تمام ہم عصر لوگوں سے امتیاز کلی بخشتا ہے اور ہر ایک شخص جو وہ امتیاز اُس کے شامل حال ہوتی ہے اُس کی نسبت قطعی اور یقینی طور پر ایمان رکھنا لازم ہو جاتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے اُن کامل بندوں اور اعلیٰ درجہ کے اولیاء میں سے ہے جن کو اُس نے اپنے ہاتھ سے چنا ہے اور اپنی نظر خاص سے اُن کی تربیت فرمائی ہے اوروہ چار چیزیں جو کامل اولیاء اور مردانِ خدا کی نشانی ہے چار کمال ہیں جو بطور نشان اور خارق عادت کے اُن میں پیدا ہوتے ہیں اورہر ایک کمال میں وہ دوسروں سے بیّن اور صریح طور پر ممتاز ہوتے ہیں بلکہ وہ چاروں کمال معجزہ کی حد تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اور ایسا آدمی کِبریتِ اَحمر کاحکم رکھتا ہے اور اِس مرتبہ پر وہی شخص پہنچتا ہے جس کو عنایت ازلی نے قدیم سے دنیا کو فائدہ پہنچانے کے لئے منتخب کیا ہو۔ اور وہ چار کمال جو بطورچار نشان یا چار معجزہ کے ہیں جو ولی اعظم اور قطب الاقطاب اور سیّد الاولیاء کی نشانی ہے