کے رہنے والے ہیں (اور ایک مُدّت دراز سے مجھ سے تعلق محبت اور اخلاص اور ارادت کا رکھتے ہیں اور اُن لوگوں میں سے ہیں جن کی نسبت مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک سچی محبت اُن کے دلوں میں بٹھادِی ہے جس کے ساتھ وہ تمام عمر رہیں گے اور جس کے ساتھ وہ اِس دنیا سے گذریں گے) اُن کا یعنی مرزا صاحب موصوف کا لڑکا مرزا ابراہیم بیگ مرحوم جو نہایت غریب اور سلیم الطبع اور وجیہ اور خوبصورت تھا بیمار ہوا۔ تب انہوں نے سامانہ سے میری طرف خط لکھا کہ میرا لڑکا بیمار ہے اُس کے لئے دعا کی جائے۔ پس جبکہ ابراہیم مرحوم کے لئے میں نے دعا کی تو مجھے فی الفور ایک کشفی حالت پیدا ہوکردکھائی دیا کہ ابراہیم میرے پاس بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے بہشت سے سلام پہنچا دو جس کے معنے اُسی وقت میرے دل میں یہ ڈالے گئے کہ اب ابراہیم کے لئے دنیوی سلامتی کی راہ بند ہے یعنی زندگی کاخاتمہ ہے۔ اِس لئے اُس کی رُوح اب بہشتی سلامتی چاہتی ہے یعنی یہ کہ ہمیشہ کے لئے بہشتؔ میں داخل ہوکر دائمی خوشحالی پاوے۔ سو ہرچند دل نہیں چاہتا تھا کہ مرزا ابراہیم بیگ مرحوم کے والد صاحب یعنی مرزا محمد یوسف بیگ صاحب کو اِس آنے والے حادثہ سے اِطلاع دی جائے ۔ مگر میں نے بہت کچھ سوچنے کے بعد مناسب سمجھا کہ مختصر لفظوں میں اِس امر غیب سے اُن کو اطلاع دے دوں۔ سو میں نے اِس کشف سے اُن کو اطلاع دے دی اور پھر تھوڑے دنوں کے بعد مرزا ابراہیم مرحوم انتقال کرکے اپنے والد مصیبت زدہ کے اُس ثواب عظیم کا موجب ہوا جو ایک پیارے بیٹے کی جدائی سے جو ایک ہی ہو اور جوان اور غریب مزاج اور فرمانبردار اور خوبصورت ہو خدائے رحیم کریم کی طرف سے مصیبت زدہ باپ کو پہنچتا ہے۔ غرض یہ کشف جو ابراہیم مرحوم کے بارے میں مجھ کو ہوا بہت سے لوگوں کو پیش از وقت سنایا گیا تھا اورخود مرزا محمد یوسف بیگ صاحب کو