شائع ہوئی تو انجمن حمایت اسلام لاہور کے ممبروں نے گورنمنٹ میں اِس مضمون کا میموریل بھیجا کہ اس کتاب کی اشاعت بند کی جائے اور نیز یہ کہ اس مصنّف سے جس نے ایسی گندی کتاب تالیف کی باز پرس ہو مگر میں اُن کے میموریل کا مخالف تھا اور میں نے اپنی ایک تحریر میں صاف طور پر یہ شائع کیا کہ یہ پہلو اختیار کرنا اچھا نہیں ہے اور مجھے اُن دنوں میں انجمن حمایت اسلام کے مخالف یہ الہام ہوا تھا ستذکرون ما اقول لکم وافوّض امری الی اللّٰہ۔ یعنی عنقریب تمہیں یہ میری بات یاد آئے گی کہ اِس طریق کے اختیار کرنے میں ناکامی ہے اور جس امر کو میں نے اختیار کیا ہے یعنی مخالفین کے اعتراضات کو ردّ کرنا اور اُن کا جواب دینا اِس امر کو میں خدا تعالیٰ کو سونپتا ہوں یعنی خدا میرے کام کا محافظ ہوگا مگر وہ ارادہ جو تم نے کیا ہے کہ اُمّہات المؤمنین کے مؤلف کو سزا دلاؤ۔ اِس میں تمہیں کامیابی ہرگز نہیں ہوگی۔ اور تمہیں بعد میں یاد آئے گا کہ جو پیش از وقت بتلایا گیا وہ واقعی اور درست تھا۔ یہ وہ الہام ہے جو قبل از وقت اپنی جماعت میں سے ایک گروہ کثیر کو سنا دیا گیا تھا چنانچہ مفتی محمد صادق صاحب بھیروی اورمولوی محمدعلی صاحب ایم اے وغیرہ احباب اِس بات کے گواہ ہیں اور جیسا کہ میں نے الہام ربّانی پاکر بہت سے لوگوں پر ظاہر کردیا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا۔ یعنی انجمن حمایت اسلام کے ممبروں نے جس غرض سے اپنا میموریل دربارہ کتاب اُمّہات المؤمنین بحضور جناب لفٹیننٹ گورنر بہادر روانہ کیا تھا وہ درخواست اُن کی نامنظور ہوئی اور مؤلّف رسالہ اُمّہات المؤمنین کسی مؤاخذہ کے نیچے نہ آیا۔ ۶۹ اور منجملہ اُن پیشگوئیوں کے جو خدا تعالیٰ نے میر ے پر ظاہر فرمائیں یہ ہے کہ میرے ایک مخلص دوست مرزا محمد یوسف بیگ سامانوی جو سامانہ علاقہ ریاست پٹیالہ