دولتِ علیہ ترکیہ مقیم ہند کو دیا تھا معلوم ہوتا ہے کہ ہر زرِ چندہ تمام وکمال قسطنطنیہ میں نہیں پہنچا۔ اور اِس امر کے باور کرنے کی یہ وجہ ہوتی ہے کہ حسین بِک کامی وائس قونصل مقیم کرانچی کوجو ایک ہزار چھ سو روپیہ کے قریب مولوی انشاء اللہ صاحب ایڈؔ یٹر اخبار وکیل امرتسر اور مولوی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار لاہور نے مختلف مقامات سے وصول کرکے بھیجا تھا وہ سب غبن کرگیا ایک کوڑی تک قسطنطنیہ میں نہیں پہنچائی مگر خدا کا شکر ہے کہ سلیم پاشا ملحمہ کارکن کمیٹی چندہ کو جب خبر پہنچی تو اُس نے بڑی جاں فشانی کے ساتھ اس روپیہ کے اگلوانے کی کوشش کی اور اُس کی اراضی مملوکہ کو نیلام کراکر وصولی رقم کا انتظام کیا اور باب عالی میں غبن کی خبر بھجواکر نوکری سے موقوف کرایا۔ اس لئے ہندوستان کے جملہ اصحاب جرائد کی خدمت میں التماس ہے کہ وہ اِس اعلان کو قومی خدمت سمجھ کر چار مرتبہ متواتر اپنے اخبارات میں مشتہر فرمائیں اور جس وقت اُن کو معلوم ہوکہ فلاں شخص کی معرفت اس قدر روپیہ چندہ کا بھیجا گیا تو اس کو اپنے جریدہ میں مشتہر کرائیں اور نام مع عنوان کے ایسا مفصّل لکھیں کہ بشرط ضرورت اس سے خط و کتابت ہوسکے۔ اور ایک پرچہ اس جریدہ کا خاکسار کے پاس بمقام قاہرہ اِس پتہ سے روانہ فرماویں:۔ حافظ عبدالرحمن الہندی الامرتسری۔ سِکّہ جدیدہ ۔ وکالہ صالح آفندی قاہرہ (ملک مصر)‘‘ ۶۸ اور منجملہ ان نشانوں کے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے ہاتھ پر ظہور میں آئے ہیں یہ ہے کہ جب کتاب اُمّہات المؤمنین عیسائیوں کی طرف سے