ایک قسطنطنیہ والی چٹھی ملی ہے جس کو ہم اپنے ناظرین کی اِطلاع کیلئے درج ذیل کئے دیتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے ہمیں کمال افسوس ہوتا ہے۔ افسوس اس وجہ سے کہ ہمیں اپنی ساری اُمیدوں کے برخلاف اس مجرمانہ خیانت کو جو سب سے بڑی اور سب سے زیادہ مہذّب و منتظم اسلامی سلطنت کے وائس قونصل کی جانب سے بڑی بے دردی کے ساتھ عمل میں آئی اپنے ان کانوں سے سننا اور پبلک پر ظاہر کرنا پڑا ہے۔ جو کیفیت جناب مولوی حافظ عبد الرحمن صاحب الہندی نزیل قسطنطنیہ نے ہمیں معلوم کرائی ہے۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حسین بِک کامی نے بڑی بے شرمی کے ساتھ مظلومان کریٹ کے روپیہ کو بغیر ڈکار لینے کے ہضم کرلیا، اور کارکن کمیٹی چندہ نے بڑی فراست اور عرقریزی کے ساتھ اُن سے روپیہ اگلوایا۔ مگر یہ دریافت نہیں ہوا کہ وائس قونصل مذکور پرعدالت عثمانیہ میں کوئی نالش کی گئی یا نہیں۔ ہماری رائے میں ایسے خائن کو عدالتانہ کارروائی کے ذریعہ عبرت انگیز سزا دینی چاہیئے۔ بہرحال ہم امید کرتے ہیں کہ یہی ایک کیس غبن کا ہوگا جو اِس چندہ کے متعلق وقوع میں آیا ہو اور جو رقوم چندہ جناب مُلّا عبد القیوم صاحب اوّل تعلقہ دار لنگسگور اور جناب عبد العزیز بادشاہ صاحب ٹرکش قونصل مدراس کی معرفت حیدرآباد اور مدراس سے روانہ ہوئیں وہ بلاخیانت قسطنطنیہ کو کمیٹی چندہ کے پاس برابر پہنچ گئی ہوں گی‘‘۔ ’’ قسطنطنیہ کی چٹھی‘‘ ’’ ہندوستان کے مسلمانوں نے جو گزشتہ دو سالوں میں مہاجرین کریٹ اورمجروحین عساکر حربِ یونان کے واسطے چندہ فراہم کرکے قونصل ہائے