جوش پیدا کریں۔ چنانچہ میرے ان الہامات سے اکثر مسلمان جوش میں آگئے اور بعض نے میری نسبت لکھا کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔ اب ہم ذیل میں بتلاتے ہیں کہ ہماری یہ پیشگوئی سچی نکلی یا جھوٹی۔ واضح ہو کہ عرصہ تخمیناً دو ماہ یا تین ماہ کا گذرا ہے کہ ایک معزز ترک کی معرفت ہمیں یہ خبر ملی تھی کہ حسین کامی مذکور اپنی ایک مجرمانہ خیانت کی وجہ سے اپنے عہدہ سے موقوف کیا گیا ہے اور اُس کی املاک ضبط کی گئی۔ مگر میں نے اس خبر کو ایک شخص کی روایت خیال کرکے شائع نہیں کیا تھاکہ شاید غلط ہو۔ آج اخبار نیّر آصفی مدراس مورخہ ۱۲؍ اکتوبر ۱۸۹۹ ؁ء کے ذریعہ سے ہمیں مفصل طور پر معلوم ہوگیا کہ ہماری وہ پیشگوئی حسین کامی کی نسبت نہایت کامل صفائی سے پوری ہوگئی اوروہ نصیحت جو ہم نے اپنے خلوت خانہ میں اُس کو کی تھی کہ توبہ کرو تا نیک پھل پاؤ جس کو ہم نے اپنے اشتہار ۲۴؍ مئی ۱۸۹۷ ؁ء میں شائع کردیا تھا اس پر پابند نہ ہونے سے آخر وہ اپنی پاداش کردار کو پہنچ گیا اور اب وہ ضرور اُس نصیحت کو یاد کرتا ہوگا۔ مگر افسوس یہ ہے کہ وہ اِس ملک کے بعض ایڈیٹران اخبار اور مولویان کو بھی جو اُس کو نائب خلیفۃ المسلمین اور رُکن امین سمجھ بیٹھے تھے اپنے ساتھ ہی ندامت کا حصہ دے گیا اور اِس طرح پر انہوں نے ایک صادق کی پیشگوئی کی تکذیب کا مزہ چکھ لیا۔ اب اُن کو چاہیئے کہ آئندہ اپنی زبانوں کو سنبھالیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ میری تکذیب کی وجہ سے بار بار اُن کو خجالت پہنچ رہی ہے؟ اگر وہ سچ پر ہیں تو کیا باعث کہ ہرایک بات میں آخرکار کیوں اُن کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ اب ہم اخبار مذکور میں سے وہ چٹھی مع تمہیدی عبارت کے ذیل میں نقل کر دیتے ہیں اور وہ یہ ہے۔ ’’چندہ مظلومان کریٹ اور ہندوستان‘‘ ’’ ہمیں آج کی ولایتی ڈاک میں اپنے ایک لائق اور معزز نامہ نگار کے پاس سے