مخاطب کرکے کہا کہ توبہ کرو تا نیک پھل پاؤ۔ یہ تو میرے الہامات تھے جو میں نے صاف دلی سے لاکھوں اِنسانوں میں بذریعہ اشتہار ۲۴؍ مئی ۱۸۹۷ ؁ء اور اشتہار ۲۵؍ جون ۱۸۹۷ ؁ء شائع کردیئے۔ مگر افسوس کہ ان اشتہارات کے شائع کرنے پر ہزارہا مسلمان میرے پر ٹوٹ پڑے۔ بعض کو تو قلّتِ تدبّر کی وجہ سے یہ دھوکہ لگا کہ گویا میں نے سلطان روم کی ذات پر کوئی حملہ کیا ہے حالانکہ وہ میرے اشتہارات اب تک موجود ہیں سلطان کی ذات سے اُن پیشگوئیوں کو کچھ تعلق نہیں صرف بعض ارکانِ سلطنت اور کارکن لوگوں کی نسبت الہام شائع کیا گیا ہے کہ وہ امین اور دیانت دار نہیں ہیں او رکھلے کھلے طور پر اشارہ کیا گیا ہے کہ اوّل نشانہ ان الہامات کا وہی حسین کامی ہے اور وہی دیانت اور امانت کے پیرایہ سے محروم اور بے نصیب ہے۔ اور ان اشتہاروں کے شائع ہونے کے بعد بعض اخبار والوں نے حسین کامی کی حمایت میں میرے پر حملے کئے کہ ایسے امین اور دیانت دار کی نسبت یہ الہام ظاہر کیا ہے کہ وہ سلطنت کا سچا امین اور دیانت دار عہدہ دار نہیں ہے اور اس کی سرشت میں نفاق کی رنگ آمیزی ہے اور اُس کو ڈرایا گیا ہے کہ توبہ کر ورنہ تیراانجام اچھا نہیں حالانکہ وہ مہمان تھا اِنسانیت کا یہ تقاضا تھا کہ اُس کی عزت کی جاتی ‘‘ اِن تمام الزامات کا میری طرف سے یہی جواب تھا کہ میں نے اپنے نفس کے جوش سے حسین کامی کو کچھ نہیں کہا بلکہ جو کچھ میں نے اس پر الزام لگایا تھا وہ الہام الٰہی کے ذریعہ سے تھا نہ ہماری طرف سے مگر افسوس کہ اکثر اخبار والوں نے اِس پر اتفاق کرلیا کہ درحقیقت حسین کامی بڑاؔ امین اور دیانت دار بلکہ نہایت بزرگوار اور نائب خلیفۃ المسلمین سلطان روم تھا اُس پر ظلم ہوا کہ اُس کی نسبت ایسا کہا گیا اور اکثر نے تو اپنی بات کو زیادہ رنگ چڑھانے کے لئے میرے تمام کلمات کوسلطان المعظّم کی طرف منسوب کردیاتا مسلمانوں میں