خراب اندرون ارکان اور عمائد اور وزراء کے نہ بلحاظ سلطان کی ذاتیات کے ضرور اُس خداداد نور اور فراست اور الہام کی تحریک سے جو ہمیں عطا ہوا ہے چند ایسی باتیں لکھی ہیں جو خود اُن کے مفہوم کے خوفناک اثر سے ہمارے دل پر ایک عجیب رقت اور درد طاری ہوتی ہے۔ سو ہماری وہ تحریر جیسا کہ گندے خیال والے سمجھتے ہیں کسی نفسانی جوش پر مبنی نہ تھی بلکہ اُس روشنی کے چشمہ سے نکلی تھی جو رحمت الٰہی نے ہمیں بخشا ہے۔‘‘ پھر اسی اشتہار کے صفحہ ۴ میں سطر ۱۹ سے ۲۱ تک یہ عبارت ہے ’’ کیا ممکن نہ تھا کہ جو کچھ میں نے رومی سلطنت کے اندرونی نظام کی نسبت بیان کیا وہ دراصل صحیح ہو اور ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں ایسے دھاگے بھی ہوں جو وقت پر ٹوٹنے والے اورغداری سرشت ظاہر کرنے والے ہوں ‘‘۔ یاد رہے کہ ابھی میں اشتہار ۲۴؍ مئی ۱۸۹۷ ء کے حوالہ سے بیان کرچکا ہوں کہ یہ غداری اور نفاق کی سرشت بذریعہ الہام الٰہی حسین بک کامی میں معلوم کرائی گئی ہے۔ غرض میرے ان اشتہارات میں جس قدر پیشگوئیاں ہیں جو میں نے اِس جگہ درج کردی ہیں ان سب سے اوّل مقصود بالذات حسین کامی مذکور تھا۔ ہاں یہ بھی پیشگوئی سے مفہوم ہوتا تھا کہ اِس مادہ کے اور بھی بہت سے لوگ ہیں جو سلطنت روم کے ارکان اور کارکن سمجھے جاتے ہیں۔ مگر بہرحال الہام کا اوّل نشانہ یہی شخص حسین کامی تھا جس کی نسبت ظاہر کیا گیا کہ وہ ہرگز امین اور دیانت دار نہیں اور اُس کا انجام اچھا نہیں جیسا کہ ابھی میں نے اپنے اشتہار ۲۴؍ مئی ۱۸۹۷ ء کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حسین کامی کی نسبت مجھے الہام ہوا کہ یہ آدمی سلطنت کے ساتھ دیانت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس کی سرشت میں نفاق کی رنگ آمیزی ہے اور اُسی کو میں نے