اچھا نہیں‘‘۔ دیکھو صفحہ دو۲ سطر ۵و۶۔ اشتہار ۲۴؍ مئی ۹۷ ؁ء مطبع ضیاء الاسلام قادیاں۔ پھر میں نے اسی اشتہار کے صفحہ ۲ سطر ۹ کے مطابق اُس ترک کونصیحت دی اور اشارہ سے اُس کو یہ سمجھایا کہ اس کشف کا اوّل نشانہ تم ہو اور تمہارے حالات الہام کے رُو سے اچھے معلوم نہیں ہوتے۔ توبہ کرو تا نیک پھل پاؤ۔ چنانچہ یہی لفظ کہ ’’ توبہ کرو تا نیک پھل پاؤ‘‘ اِس اشتہار کے صفحہ ۲ سطر ۹ میں ابتک موجود ہے جو سفیر مذکور کو مخاطب کرکے کہا گیا تھا۔ پس یہ تقریر میری جو اس اشتہار میں سے اِس جگہ لکھی گئی ہے دو پیشگوئیوں پر مشتمل تھی (۱) ایک یہ کہ میں نے اس کو صاف لفظوں میں سمجھا دیا کہ تم لوگوں کا چال چلن اچھا نہیں ہے اور دیانت اور امانت کی نیک صفات سے تم محروم ہو۔ (۲) دوسرے یہ کہ اگر تیری یہی حالت رہی تو تجھے اچھا پھل نہیں ملے گا اور تیراانجام بد ہوگا۔ پھر میں نے صفحہ ۳ میں بطور پیشگوئی سفیر مذکور کی نسبت لکھا ہے ’’ اس کے لئے (یعنی سفیر مذکور کے لئے) بہتر تھا کہ میرے پاس نہ آتا۔ میرے پاس سے ایسی بدگوئی سے واپس جانا اس کی سخت بدقسمتی ہے‘‘۔ دیکھو صفحہ ۳ سطر نمبر ۱۔ اشتہار ۲۴؍ مئی ۱۸۹۷ ؁ء۔ پھر اسی صفحہ کی سطر ۹ میں ؔ یہ پیشگوئی ہے۔ ’’ اللہ جلّ شانہٗ جانتا ہے جس پر جھوٹ باندھنا *** کا داغ خریدنا ہے کہ اُس عالم الغیب نے مجھے پہلے سے اطلاع دے دی تھی کہ اِس شخص کی سرشت میں نفاق کی رنگ آمیزی ہے‘‘۔ پھر میں نے اشتہار ۲۵؍ جون ۱۸۹۷ ؁ء کے صفحہ ۲ میں مذکورہ پیشگوئیوں کا اعادہ کرکے دسویں سطر سے سولھویں سطر تک یہ عبارت لکھی ہے۔ ’’ ہم نے گذشتہ اشتہارات میں ترکی گورنمنٹ پر بلحاظ اس کے بعض عظیم الدخل اور