خدا نے مجھ کو القا کیا کہ رُومی سلطنت انہی لوگوں کی شامتِ اعمال سے خطرہ میں ہے کیونکہ یہ لوگ کہ جو علیٰ حسب مراتب قربِ سُلطان سے کچھ حصہ رکھتے ہیں اوراس سلطنت کی اکثر نازک خدمات پر مامور ہیں یہ اپنی خدمات کو دِیانت سے ادا نہیں کرتے اور سلطنت کے سچے خیر خواہ نہیں ہیں بلکہ اپنی طرح طرح کی خیانتوں سے اِس اسلامی سلطنت کو جو حرمین شریفین کی محافظ اور مسلمانوں کے لئے مغتنمات میں سے ہے کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ سومیں اِس الہام کے بعد محض القاء الٰہی کی وجہ سے حسین بک کامی سے سخت بیزار ہوگیا ۔ لیکن نہ رُومی سلطنت کے بغض کی وجہ سے بلکہ محض اس کی خیر خواہی کی وجہ سے۔ پھر ایسا ہوا کہ تُرک مذکور نے درخواست کی کہ میں خلوت میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ چونکہ وہ مہمان تھا اِس لئے میرے دِل نے اخلاقی حقوق کی وجہ سے جو تمام بنی نوع کو حاصل ہیں یہ نہ چاہا کہ اس کی اِس درخواست کو ردّ کروں۔ سومیں نے اجازت دی کہ وہ میرے خلوت خانہ میں آجائے اور جو کچھ بات کرنا چاہتا ہے کرے۔ پس جب سفیر مذکور میرے خلوت خانہ میں آیا تو اُس نے جیسا کہ میں نے اشتہار ۲۴؍ مئی ۱۸۹۷ ؁ء کے پہلے اور دوسرے صفحہ میں لکھا ہے مجھ سے یہ درخواست کی کہ میں اُن کے لئے دعا کروں تب میں نے اُس کو وہی جواب دیا جو اشتہار مذکور کے صفحہ دو۲ میں درج ہے۔ جو آج سے قریباً د و برس پہلے تمام برٹش انڈیا میں شائع ہوچکا ہے۔ چنانچہ اشتہار ۲۴؍ مئی ۱۸۹۷ء کے صفحہ ۲ کی یہ عبارت ہے جو میری طرف سے سفیر مذکور کو جواب ملا تھا اور وہ یہ ہے جو میں موٹی قلم سے لکھتا ہوں۔ ’’سلطان روم کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اُس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام