ہے کیونکہ اُن کی عملی حالت اچھی نہیں ہے۔ اس پیشگوئی کے لکھنے اور شائع کرنے کا باعث جیسا کہ میں نے اُسی اشتہار ۲۴؍ مئی ۱۸۹۷ ؁ء میں بہ تفصیل لکھا ہے یہ ہوا تھا کہ ایک شخص مسمّی حسین بک کامی وائس قونصل مقیم کرانچی قادیاں میں میرے پاس آیا جو اپنے تئیں سلطنت روم کی طرف سے سفیر ظاہرکرتا تھا اور اپنی نسبت اور اپنے باپ کی نسبت یہ خیال رکھتا تھا کہ گویا یہ دونوں اوّل درجہ کے سلطنت کے خیر خواہ اور دیانت اور امانت میں دونوں مقدس وجود اور سرا پانیکی اور راستبازی اور تدین کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں بلکہ جیسا کہ پرچہ اخبار ۱۵؍ مئی ۱۸۹۷ ؁ء ناظم الہند لاہور میں لکھا ہے اِس شخص کی ایسی ایسی لاف و گزاف سے لوگوں نے اِس کو نائب حضرت سلطان رُوم سمجھا اور یہ مشہور کیا گیا کہ یہ بزرگو ارمحض اس غرض سے لاہور وغیرہ نواح اِس ملک میں تشریف لائے ہیں کہ تا اِس ملک کے غافلوں کو اپنیؔ پاک زندگی کا نمونہ دکھلاویں اور تا لوگ اُن کے مقدس اعمال کو دیکھ کر اُن کے نمونہ پر اپنے تئیں بناویں۔ اور اِس تعریف میں یہاں تک اصرار کیا گیا تھا کہ اُسی ایڈیٹر ناظم الہند نے اپنے پرچہ مذکور یعنی ۱۵؍ مئی ۱۸۹۷ ؁ء کے پرچہ میں جھوٹ اور بے شرمی کی کچھ بھی پرواہ نہ کرکے یہ بھی شائع کردیا تھا کہ یہ نائب خلیفۃ اللہ سلطان رُوم جو پاک باطنی اور دیانت او رامانت کی وجہ سے سراسر نور ہیں یہ اِس لئے قادیاں میں بلائے گئے ہیں کہ تا مرزائے قادیان اپنے افترا سے اس نائب الخلافت یعنی مظہر انوارِ الٰہی کے ہاتھ پر توبہ کرے اور آیندہ اپنے تئیں مسیح موعود ٹھہرانے سے باز آجائے اور ایسا ہی اور بھی بعض اخباروں میں میری بدگوئی کو مدنظر رکھ کر اس قدر اس شخص کی تعریفیں کی گئیں کہ قریب تھا کہ اُس کو آسمان چہارم کا فرشتہ بنادیتے لیکن جب وہ میرے پاس آیا تو اُس کی شکل دیکھنے سے ہی میری فراست نے یہ گواہی دی کہ یہ شخص امین اور دیانت داراور پاک باطن نہیں ہے اور ساتھ ہی میرے